تاریخ کے صفحات میں 17 اکتوبر: مدر ٹریسا کو نوبیل امن انعام سے نوازا گیا
انسانیت کی خدمت، ہمدردی اور فلاح و بہبود کی بات ہو تو مدر ٹریسا کا نام نمایاں طور پر لیا جاتا ہے۔ اپنی پوری زندگی غریبوں، یتیموں، بیماروں اور بے سہارا لوگوں کی دیکھ بھال کے لیے وقف کرنے والی مدر ٹریسا کو 17 اکتوبر 1979 کو نوبیل امن انعام سے نوازا گ
تاریخ کے صفحات میں 17 اکتوبر: مدر ٹریسا کو نوبیل امن انعام سے نوازا گیا


انسانیت کی خدمت، ہمدردی اور فلاح و بہبود کی بات ہو تو مدر ٹریسا کا نام نمایاں طور پر لیا جاتا ہے۔ اپنی پوری زندگی غریبوں، یتیموں، بیماروں اور بے سہارا لوگوں کی دیکھ بھال کے لیے وقف کرنے والی مدر ٹریسا کو 17 اکتوبر 1979 کو نوبیل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔ یہ اعزاز ان کی انسانی خدمات اور ضرورت مندوں کے لیے تاحیات جدوجہد کا عالمی اعتراف تھا۔

مدر ٹریسا رومن کیتھولک راہبہ تھیں۔ انہوں نے کولکاتا میں رہ کر معاشرے کے سب سے محروم طبقات کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ سال 1950 میں انہوں نے ’مشنریز آف چیریٹی‘ نامی ادارے کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کے ذریعے انہوں نے بے سہارا، بیمار، یتیم اور نظر انداز کیے جانے والے لوگوں کی مدد کے لیے وسیع پیمانے پر کام شروع کیا۔ رفتہ رفتہ اس ادارے کی سرگرمیاں ہندوستان سے باہر بھی پھیل گئیں اور دنیا کے مختلف حصوں میں اس کے خدمت مراکز قائم ہوئے۔

مدر ٹریسا 26 اگست 1910 کو اسکوپیہ میں پیدا ہوئیں، جو اس وقت سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ ان کا اصل نام ایگنیس گونجا بوجاجیو تھا۔ وہ 1929 میں ہندوستان پہنچیں اور بعد میں کولکاتا میں ضرورت مندوں کے درمیان خدمت کا کام شروع کیا۔ انہوں نے خدمت کو محض مالی یا مادی مدد تک محدود نہیں رکھا، بلکہ ان لوگوں کو عزت، محبت اور اپنائیت دینے پر زور دیا جنہیں معاشرہ اکثر نظر انداز کردیتا ہے۔

مدر ٹریسا کا ہندوستان سے گہرا تعلق رہا۔ انہوں نے 1948 میں ہندوستانی شہریت اختیار کی۔ انسانی خدمات کے شعبے میں ان کے نمایاں تعاون کے لیے 1980 میں انہیں ملک کے سب سے بڑے شہری اعزاز ’بھارت رتن‘ سے نوازا گیا۔ اس سے پہلے 1979 میں نوبیل امن انعام کے ذریعے ان کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر پہچان حاصل ہوئی تھی۔

مدر ٹریسا کا انتقال 5 ستمبر 1997 کو کولکاتا میں ہوا۔ ان کے انتقال کے بعد بھی مشنریز آف چیریٹی ضرورت مندوں کی خدمت میں مصروف رہی۔ سال 2016 میں پوپ فرانسس نے انہیں رومن کیتھولک چرچ میں ’سینٹ‘ یعنی مقدس شخصیت کا درجہ دیا۔

اہم واقعات

1870ئ: کلکتہ بندرگاہ کو ایک آئینی ادارے کے انتظام کے تحت لایا گیا۔

1874ئ: کولکاتا کو ہاوڑہ سے جوڑنے کے لیے دریائے ہوگلی پر پیپوں سے تیار کردہ تیرتا ہوا پل ٹریفک کے لیے کھولا گیا۔ بعد میں اسی مقام پر ہاوڑہ برج تعمیر کیا گیا۔

1912ئ: بلغاریہ، یونان اور سربیا نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔

1917ئ: پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانیہ نے پہلی مرتبہ جرمنی پر فضائی حملے کیے۔

1918ئ: یوگوسلاویہ نے خود کو جمہوریہ ملک قرار دیا۔

1940ئ: مہاتما گاندھی نے انفرادی ستیہ گرہ کا اعلان کیا۔

1941ئ: دوسری عالمی جنگ میں پہلی مرتبہ جرمنی کی آبدوز نے ایک امریکی بحری جہاز پر حملہ کیا۔

1949ئ: دستور ساز اسمبلی نے آئین کی دفعہ 370 کو منظور کیا، جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی دفعات فراہم کی گئیں۔

1968ئ: میکسیکو اولمپکس میں امریکہ کے دو سیاہ فام کھلاڑیوں نے نسلی امتیاز کے خلاف خاموش احتجاج کیا۔

- 1979ئ: مدر ٹریسا کو نوبیل امن انعام سے نوازا گیا۔

1994ئ: ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کپل دیو نے، جن کی قیادت میں ہندوستان نے 1983 میں عالمی کپ جیتا تھا، فریدآباد میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے کیریئر کا آخری یک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلا۔

2003ئ: چین نے روس کے بعد دنیا کا تیسرا ملک بننے کا اعزاز حاصل کیا جس نے انسان کو خلا میں بھیجا۔ ایشیا میں چین ایسا کرنے والا پہلا ملک بنا۔

2003ئ: پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کے قتل کی سازش میں ملوث تین ملزمین کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

2004ئ: نیوزی لینڈ کی وزیراعظم ہیلن کلارک ہندوستان پہنچیں۔

2004ئ:گوانتانامو بے کی جیل میں امریکی فوجیوں کی جانب سے قیدیوں کو غیر انسانی اذیتیں دینے کا انکشاف ہوا۔

پیدائش

1817ئ: سر سید احمد خان، علی گڑھ اورینٹل کالج کے بانی

1892ئ: آر کے شانمکھم چیٹی، سیاست داں اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر خزانہ

1923ئ: شیوانی، مشہور ناول نگار

1931ئ: ایس سی ضمیر، ناگالینڈ کے سابق چھٹے وزیراعلیٰ

1955ئ: اسمتا پاٹل، ہندی فلموں کی مشہور اداکارہ

1970ئ: انیل کمبلے، ہندوستانی کرکٹ کھلاڑی

1973ئ: بھگونت مان، ریاست پنجاب کے موجودہ وزیراعلیٰ

انتقال

1605ئ: جلال الدین محمد اکبر، مغل شہنشاہ

1906ئ: سوامی رام تیرتھ، ہندو مذہبی رہنما، جو ویدانت کی عملی تعلیم کے لیے مشہور تھے۔

1998ئ: للن پرساد سنگھ، ہندوستان کی پانچ ریاستوں کے گورنر رہ چکے تھے

2018ئ: ارون بھادڑی، ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے معروف گلوکار

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande