(انٹرویو) اپوزیشن کے پاس نہ پالیسی ہے، نہ وژن؛ حکومت اعلیٰ تعلیم میں بڑی تبدیلیاں لا رہی ہے: رجنی تیواری
نئی دہلی، 15 اکتوبر (ہ س)۔ اتر پردیش کی وزیر مملکت برائے اعلیٰ تعلیم اور ہردوئی کے شاہ آباد سے رکن اسمبلی رجنی تیواری نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت اعلیٰ تعلیم کے نظام کو جدید، شفاف اور روزگار سے مربوط بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ قومی تعلیمی پالی
(انٹرویو) اپوزیشن کے پاس نہ پالیسی ہے، نہ وژن؛ حکومت اعلیٰ تعلیم میں بڑی تبدیلیاں لا رہی ہے: رجنی تیواری


نئی دہلی، 15 اکتوبر (ہ س)۔ اتر پردیش کی وزیر مملکت برائے اعلیٰ تعلیم اور ہردوئی کے شاہ آباد سے رکن اسمبلی رجنی تیواری نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت اعلیٰ تعلیم کے نظام کو جدید، شفاف اور روزگار سے مربوط بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت تعلیمی اداروں میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ دیہی کالجوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کو وسعت دینے اور خالی آسامیوں کو پُر کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً 20 برسوں سے عوام کے درمیان مسلسل موجود رہنے اور ان کے سکھ دکھ میں شریک ہونے کی وجہ سے انہیں عوام کا اعتماد حاصل ہوا ہے۔ ان کے مطابق، سیاست میں کامیابی کے لیے سخت محنت اور عوام سے مسلسل رابطہ ضروری ہے۔

اعلیٰ تعلیم میں خالی آسامیوں کے بارے میں رجنّی تیواری نے کہا کہ حکومت تعلیم کو ہندوستانی ثقافت اور اقدار سے جوڑنے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے وژن پر کام کر رہی ہے۔ دیہی کالجوں میں ڈیجیٹل لائبریریاں اور ڈیجیٹل پارک قائم کیے گئے ہیں۔ حکومت کا مقصد جدید تعلیمی سہولتیں ہر طالب علم تک پہنچانا ہے۔

امتحانات میں نقل اور بے ضابطگیوں پر انہوں نے سابقہ حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں امتحانی نظام کو شفاف اور نقل سے پاک بنایا گیا ہے۔ حکومت تعلیمی سیشن کو وقت پر مکمل کرنے اور نوجوانوں کو عالمی مسابقت کے قابل بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

طالبات کی اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت نے بڑے پیمانے پر ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون تقسیم کیے ہیں اور ہونہار طالبات کو اسکوٹی فراہم کرنے کی اسکیم پر بھی کام جاری ہے۔ جن علاقوں میں یونیورسٹیاں نہیں تھیں، وہاں ریاستی اور نجی یونیورسٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ خواتین کے ڈگری کالج کھولنے کا مقصد دیہی لڑکیوں کو مقامی سطح پر اعلیٰ تعلیم کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

خواتین کے ریزرویشن پر انہوں نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی خواتین کی نمائندگی اور خود کفالت کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، خود امدادی گروپوں اور مختلف سرکاری اسکیموں کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔

سماجوادی پارٹی کے پی ڈی اے فارمولے پر تبصرہ کرتے ہوئے رجنی تیواری نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس نہ واضح نظریہ ہے، نہ پالیسی اور نہ ہی وژن۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی بغیر کسی امتیاز کے تمام طبقات کی ترقی کے لیے کام کر رہی ہے۔

شاہ آباد کی ترقی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ریلوے اوور برج، رابطہ سڑکوں کی توسیع، جدید بس اڈے، صحت مراکز اور سرکاری خواتین ڈگری کالج جیسے منصوبوں پر کام کیا گیا ہے۔ ان کا اگلا بڑا ہدف شاہ آباد میں جدید انجینئرنگ کالج قائم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی ایک مسلسل عمل ہے اور حکومت کا عزم ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس‘ کے اصول پر قائم ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande