
نئی دہلی، 14 اکتوبر(ہ س)۔ وزیر اعظم سوریہ گھر مفت بجلی اسکیم کے تحت ملک بھر میں اب تک 52 لاکھ 32 ہزار 58 شمسی توانائی کے نظام نصب کیے جا چکے ہیں، جن سے 62 لاکھ 3 ہزار 315 خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ نصب شدہ شمسی نظاموں کی مجموعی صلاحیت 18,280.39 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مرکزی حکومت اب تک 33,904.41 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری کر چکی ہے۔
وزارتِ جدید و قابلِ تجدید توانائی کے سرکاری پورٹل پر 13 اکتوبر تک دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، شمسی نظاموں کی تنصیب کے معاملے میں اتر پردیش سرفہرست ہے۔ گجرات میں شمسی توانائی کی نصب شدہ صلاحیت سب سے زیادہ ہے، جبکہ مستفید ہونے والے خاندانوں کی تعداد کے لحاظ سے مہاراشٹر پہلے مقام پر ہے۔
اتر پردیش میں سب سے زیادہ شمسی نظام نصب، گجرات صلاحیت میں آگے
اتر پردیش میں اس اسکیم کے تحت 9 لاکھ 411 شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں، جن سے 9 لاکھ 9 ہزار 487 خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ ریاست میں 3,018.14 میگاواٹ صلاحیت نصب کی گئی ہے اور 5,822.27 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری کی گئی ہے۔
گجرات میں اب تک 8 لاکھ 93 ہزار 5 شمسی نظام نصب ہو چکے ہیں، جبکہ 12 لاکھ 55 ہزار 906 خاندان اس اسکیم سے مستفید ہوئے ہیں۔ ریاست میں نصب شدہ صلاحیت 3,349.64 میگاواٹ ہے، جو اہم ریاستوں میں سب سے زیادہ ہے۔ گجرات کو اب تک 6,369.68 کروڑ روپے کی سبسڈی دی جا چکی ہے۔
مہاراشٹر میں 8 لاکھ 53 ہزار 259 شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں۔ یہاں 13 لاکھ 12 ہزار 332 خاندانوں کو اس اسکیم کا فائدہ ملا ہے، جو ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ ریاست میں 3,115.64 میگاواٹ صلاحیت نصب کی گئی ہے اور 5,926.73 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری کی گئی ہے۔ان تینوں ریاستوں کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتر پردیش شمسی نظاموں کی تعداد، گجرات نصب شدہ صلاحیت اور مہاراشٹر مستفید خاندانوں کی تعداد کے لحاظ سے آگے ہے۔
راجستھان میں 3.48 لاکھ شمسی نظام نصب، صلاحیت 1,361 میگاواٹ سے زیادہ،
آندھرا پردیش میں 4 لاکھ 56 ہزار 235 شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں، جن سے 4 لاکھ 62 ہزار 878 خاندان مستفید ہوئے ہیں۔ ریاست میں 1,268.84 میگاواٹ صلاحیت نصب کی گئی ہے اور 2,374.85 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری ہوئی ہے۔ شمسی نظاموں کی تنصیب کے معاملے میں آندھرا پردیش چوتھے مقام پر ہے۔
راجستھان میں اب تک 3 لاکھ 48 ہزار 502 شمسی نظام نصب کیے جا چکے ہیں، جن سے 3 لاکھ 63 ہزار 226 خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ ریاست میں نصب شدہ صلاحیت 1,361.15 میگاواٹ ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے 2,270.42 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری کی گئی ہے۔ شمسی نظاموں کی تعداد کے لحاظ سے راجستھان پانچویں مقام پر ہے، تاہم نصب شدہ صلاحیت میں وہ آندھرا پردیش سے آگے ہے۔
مدھیہ پردیش میں ایک لاکھ 91 ہزار 493 شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں، جن سے ایک لاکھ 97 ہزار 328 خاندان مستفید ہوئے ہیں۔ ریاست میں 718.08 میگاواٹ صلاحیت نصب کی گئی ہے اور 1,308.89 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری ہوئی ہے۔
ہریانہ میں ایک لاکھ 52 ہزار 575 شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں، جن سے ایک لاکھ 66 ہزار 942 خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ ریاست میں 518.78 میگاواٹ صلاحیت نصب ہوئی ہے اور 944.19 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری کی گئی ہے۔
تمل ناڈو میں ایک لاکھ 5 ہزار 668 شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں، جن سے ایک لاکھ 22 ہزار 832 خاندان مستفید ہوئے ہیں۔ یہاں 387.67 میگاواٹ صلاحیت نصب کی گئی ہے اور 685.12 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری ہوئی ہے۔تلنگانہ میں 68 ہزار 991 شمسی نظاموں سے 86 ہزار 704 خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ ریاست میں مجموعی طور پر 253.32 میگاواٹ صلاحیت نصب کی گئی ہے اور 430.39 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری کی گئی ہے۔
کرناٹک میں 27 ہزار 17 شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں، جن سے 40 ہزار 17 خاندان مستفید ہوئے ہیں۔ یہاں 112.52 میگاواٹ صلاحیت نصب کی گئی ہے اور 185.54 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری ہوئی ہے۔ شمسی نظاموں کی تعداد کے لحاظ سے کرناٹک دستیاب اعداد و شمار میں ملک کی سرفہرست دس ریاستوں میں دسویں مقام پر ہے۔
چھوٹی ریاستوں اور شمال مشرقی علاقوں میں تنصیب کی رفتار سست
اسکیم کے تحت بعض چھوٹی ریاستوں اور شمال مشرقی خطے میں شمسی نظاموں کی تنصیب کی تعداد کافی کم ہے۔اروناچل پردیش میں اب تک صرف دو شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں۔ یہاں 0.01 میگاواٹ صلاحیت نصب ہوئی ہے اور 0.01 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری کی گئی ہے۔سکم میں 65 شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں اور اتنے ہی خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ ریاست میں 0.22 میگاواٹ صلاحیت نصب کی گئی ہے، جبکہ 0.44 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری ہوئی ہے۔
انڈمان و نکوبار جزائر میں 605 شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں، جن سے 624 خاندان مستفید ہوئے ہیں۔ یہاں 1.98 میگاواٹ صلاحیت نصب ہوئی ہے اور 3.87 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری کی گئی ہے۔ناگالینڈ میں 619 شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں، جن سے اتنے ہی خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ ریاست میں 2.08 میگاواٹ صلاحیت نصب کی گئی ہے اور 4.33 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری ہوئی ہے۔
منی پور میں 2,128 شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں، جن سے 2,128 خاندان مستفید ہوئے ہیں۔ ریاست میں 8.08 میگاواٹ صلاحیت کے لیے 14.75 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری کی گئی ہے۔
میزورم میں 1,615 شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں، جن سے 1,617 خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ ریاست میں 6.62 میگاواٹ صلاحیت نصب ہوئی ہے اور 12.30 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری کی گئی ہے۔
تریپورہ میں 5,663 شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں، جن سے 5,675 خاندان مستفید ہوئے ہیں۔ یہاں 19.43 میگاواٹ صلاحیت نصب کی گئی ہے اور 40.42 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری ہوئی ہے۔
دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو میں 2,227 شمسی نظام نصب کیے گئے ہیں، جن سے اتنے ہی خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ یہاں 4.31 میگاواٹ صلاحیت کے لیے 7.34 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری کی گئی ہے۔
دشوار گزار علاقوں میں شمسی نظاموں کی تنصیب بڑا چیلنج
اروناچل پردیش اور شمال مشرقی خطے کی پہاڑی ریاستوں میں شمسی نظاموں کی تنصیب کی کم تعداد کی ممکنہ وجوہات میں دشوار گزار جغرافیائی حالات، دور دراز علاقوں میں آبادی کا پھیلاؤ اور شمسی آلات کی فراہمی و تنصیب کے لیے تکنیکی خدمات کی محدود دستیابی شامل ہیں۔
ان مسائل کے باعث ان علاقوں میں اسکیم پر عمل درآمد نسبتاً مشکل ہو سکتا ہے۔ شمسی نظاموں کی تنصیب میں تیزی لانے کے لیے آلات کی بروقت فراہمی، تکنیکی سہولتوں میں اضافہ اور دور دراز علاقوں تک خدمات کی رسائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan