
کولکاتا، 12 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی کی طرز پر اب مغربی بنگال میں بھی جدید ترین ’نمو بھارت‘ ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (آر آر ٹی ایس) شروع کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس کے تحت کولکاتا کو مرکز بنا کر ریاست کے مختلف صنعتی، تعلیمی اور اہم شہروں کو جوڑنے کے لیے 604 کلومیٹر طویل چار ہائی اسپیڈ کوریڈور تعمیر کرنے کی تجویز مرکزی وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور کو پیش کی گئی ہے۔ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ شَمک بھٹاچاریہ نے اس سلسلے میں مرکزی وزیر منوہر لال کھٹر کو باضابطہ تجویز پیش کی ہے۔
اس اہم منصوبے کے تحت چار بڑے روٹ تجویز کیے گئے ہیں۔ پہلا کوریڈور کولکاتا سے کلیانی اور کرشن نگر ہوتے ہوئے مایاپور تک جائے گا، جس کی لمبائی 135 کلومیٹر ہوگی۔ اس سے کلیانی میں واقع آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، نادیہ ضلع کا صدر مقام اور اسکون کے صدر دفتر کو جوڑا جائے گا۔دوسرا روٹ کولکاتا سے بردوان اور درگاپور ہوتے ہوئے آسنسول تک ہوگا، جس کی لمبائی 232 کلومیٹر تجویز کی گئی ہے۔ یہ کوریڈور ریاست کے اہم کوئلہ اور فولاد کی صنعتوں والے علاقوں کو آپس میں جوڑے گا۔تیسرا کوریڈور 102 کلومیٹر طویل ہوگا، جو کولکاتا کے پھلتا ایس ای زیڈ، ڈائمنڈ ہاربر، ہلدیہ بندرگاہ اور نندی گرام کو مربوط کرے گا۔ وہیں چوتھا روٹ 135 کلومیٹر طویل ہوگا، جو سنتراگاچھی، کولاگھاٹ اور کھڑگ پور سے گزرتے ہوئے مدنی پور شہر تک پہنچے گا۔
مجوزہ منصوبے کے تحت ان جدید ترین ٹرینوں کی ڈیزائن رفتار 160 سے 180 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے روایتی ٹرینوں کے مقابلے میں سفر کا وقت کافی کم ہونے کی توقع ہے۔ان تمام کوریڈورز کو کولکاتا میٹرو کی مختلف لائنوں، ہاوڑہ اور سیالدہ جیسے اہم ریلوے ٹرمینلز، زیر تعمیر دہلی-وارانسی-ہاوڑہ بلٹ ٹرین نیٹ ورک اور قومی شاہراہوں، خصوصاً این ایچ 19، سے براہِ راست جوڑنے کا منصوبہ ہے۔زمین کے حصول سے متعلق مشکلات کم کرنے کے لیے ریلوے پٹریوں کو زیادہ تر موجودہ ریلوے اراضی اور راستوں (رائٹ آف وے) کے ساتھ ساتھ، نیز ایکسپریس ویز کے متوازی بچھانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
شہری ٹرانسپورٹ کے ماہر ستیہ سنگھ کا خیال ہے کہ ریپڈ ریل نظام مغربی بنگال کے معاشی اور سماجی منظرنامے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے ’ہندوستھان سماچار‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کولکاتا کے اطراف 600 کلومیٹر سے زیادہ طویل ہائی اسپیڈ نیٹ ورک نہ صرف آمدورفت کو آسان بنائے گا بلکہ میٹرو شہر پر بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
ان کے مطابق درگاپور، آسنسول، ہلدیہ اور کھڑگ پور جیسے اہم صنعتی اور تعلیمی مراکز جب تیز رفتار ریل کے ذریعے کولکاتا سے محض ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کی دوری پر آجائیں گے تو ریاست میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہوں گے، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور روزانہ سفر کرنے والوں کو عالمی معیار کی سفری سہولت میسر آئے گی۔ یہ منصوبہ بنگال کے بنیادی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کولکاتا کے اطراف مجوزہ 604 کلومیٹر طویل نمو بھارت نیٹ ورک ریاست کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے۔ اس منصوبے سے روزانہ آمدورفت آسان ہونے کے ساتھ ساتھ کولکاتا پر بڑھتے ہوئے آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کو بھی مختلف علاقوں میں تقسیم کرنے میں مدد ملے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan