مدھیہ پردیش میں او بی سی ریزرویشن کے فیصلے پر نئی لڑائی شروع، 27 فیصد ریزرویشن پھر گھٹ کر 14 فیصد پر پہنچا
مکیش تومر بھوپال، 12 اکتوبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں او بی سی ریزرویشن کے فیصلے پر نئی لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ ہائی کورٹ کی جانب سے 27 فیصد ریزرویشن کو دوبارہ 14 فیصد کیے جانے کے بعد یہ تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ ریزرویشن کے اس معاملے کی وجہ سے ریاست
رزرویشن


مکیش تومر

بھوپال، 12 اکتوبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں او بی سی ریزرویشن کے فیصلے پر نئی لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ ہائی کورٹ کی جانب سے 27 فیصد ریزرویشن کو دوبارہ 14 فیصد کیے جانے کے بعد یہ تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ ریزرویشن کے اس معاملے کی وجہ سے ریاست میں مختلف عہدوں کی مجموعی طور پر 9,063 خالی آسامیوں پر تقرری روک دی گئی تھی۔ ان میں مدھیہ پردیش پبلک سروس کمیشن (ایم پی پی ایس سی) کی 913 اور ملازمین کے انتخابی بورڈ کی 8,150 آسامیاں شامل ہیں۔

دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے ریزرویشن کو لے کر جاری طویل قانونی لڑائی نے ایک بار پھر ریاست کی سیاست، سرکاری بھرتیوں اور اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کو بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ کانگریس نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسے میں ریزرویشن کا سوال اب عدالتی فیصلے سے آگے بڑھ کر سیاسی اور سماجی بحث کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔

سال 2019 میں ریزرویشن کو 14 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کرنے کے فیصلے پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے روک لگاتے ہوئے متعلقہ قانون کو غیر آئینی قرار دیا اور ریزرویشن کی حد دوبارہ 14 فیصد مقرر کر دی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے بھرتی کرنے والے اداروں کو روکی گئی 13 فیصد آسامیوں کو غیر محفوظ زمرے کی انتخابی فہرست کی بنیاد پر تین ماہ کے اندر پُر کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

ریزرویشن بڑھانے کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔ عرضی گزاروں کا استدلال تھا کہ اس سے ریاست میں مجموعی ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے تجاوز کر جاتی ہے اور اس کی حمایت میں کافی بنیادیں پیش نہیں کی گئی ہیں۔ معاملہ طویل عدالتی کارروائی میں الجھ گیا۔ اس دوران 27 فیصد ریزرویشن کا فائدہ تمام متعلقہ بھرتیوں میں یکساں طور پر نافذ نہیں ہو سکا اور کئی آسامیوں پر تقرریوں کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار رہی۔

اس تنازع کا اثر صرف سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رہا۔ بھرتی امتحانات میں شامل ہونے والے امیدواروں کے لیے یہ سوال اہم بنا رہا کہ انتخابی عمل میں ریزرویشن کی کون سی حد نافذ ہوگی اور نتائج میں روکی گئی آسامیوں کا مستقبل کیا ہوگا؟

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی جسٹس آنند پاٹھک اور جسٹس ونَے صراف پر مشتمل ڈویژن بنچ نے گزشتہ 9 اکتوبر کو متعلقہ عرضیوں پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے مانا کہ او بی سی ریزرویشن کو 14 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کرنے کے لیے ایسے غیر معمولی حالات مناسب طور پر ثابت نہیں کیے گئے، جن کی بنیاد پر ریزرویشن کی 50 فیصد حد سے آگے جانے کو جائز قرار دیا جا سکے۔

عدالت کے سامنے پیش کیے گئے دستاویزات، اعداد و شمار اور جدولوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ ریزرویشن بڑھانے کے لیے ضروری آئینی بنیاد ثابت نہیں ہو سکی۔ فیصلے میں یہ بات بھی اہم رہی کہ تنازع پسماندہ طبقے کو ریزرویشن دینے کے حق کا نہیں، بلکہ ریزرویشن کی مقررہ حد کو 14 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کرنے کی قانونی حیثیت کا تھا۔

اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ فیصلے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ریاست میں او بی سی طبقے کو ریزرویشن ملنا بند ہو گیا ہے۔ عدالت نے ریزرویشن کی بڑھی ہوئی حد کو منسوخ کرتے ہوئے 14 فیصد بحال کر دی ہے۔ اس طرح تنازع کا بنیادی سوال اب بھی یہی ہے کہ پسماندہ طبقے کو کتنے فیصد ریزرویشن کا فائدہ دیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے آئین کے تحت کن شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے۔

فیصلے کا سب سے فوری اثر سرکاری بھرتیوں پر پڑ سکتا ہے۔ عدالت نے مدھیہ پردیش پبلک سروس کمیشن، ملازمین کے انتخابی بورڈ اور دیگر بھرتی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ روکی گئی 13 فیصد آسامیوں کو غیر محفوظ زمرے کی انتخابی فہرست کی بنیاد پر تین ماہ کے اندر پُر کیا جائے۔

قابل ذکر ہے کہ مدھیہ پردیش میں او بی سی ریزرویشن کا نظام سال 1994 کے قانون کے تحت 14 فیصد تھا، لیکن 8 مارچ 2019 کو اس وقت کی کمل ناتھ حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے اسے بڑھا کر 27 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد میں اس سلسلے میں قانون بھی بنایا گیا۔ اس تبدیلی کا مقصد پسماندہ طبقے کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں زیادہ نمائندگی دینے کی سمت میں قدم اٹھانا تھا۔

او بی سی ریزرویشن تنازع کے باعث 9,063 آسامیاں پھنسی رہیں

مدھیہ پردیش میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کا ریزرویشن 14 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کیے جانے کے بعد شروع ہونے والے قانونی تنازع کا سرکاری بھرتیوں پر طویل عرصے تک اثر پڑا۔ اس دوران کئی امتحانات میں 87 فیصد آسامیوں پر بھرتی کا عمل آگے بڑھایا گیا، جبکہ باقی 13 فیصد آسامیوں کو روک کر رکھا گیا۔

محکمہ جاتی اعداد و شمار کے مطابق، مدھیہ پردیش پبلک سروس کمیشن (ایم پی پی ایس سی) اور ملازمین کے انتخابی بورڈ کے ذریعے مجموعی طور پر 69 ہزار 715 بھرتیاں کی گئیں۔ ان میں سے کل 9,063 آسامیاں روک دی گئی تھیں۔ ان میں ایم پی پی ایس سی کی 913 اور ملازمین کے انتخابی بورڈ کی 8,150 آسامیاں شامل ہیں۔

ایم پی پی ایس سی کے مختلف بھرتی امتحانات میں 913 آسامیاں زیر التوا بتائی گئی ہیں۔ ان میں ریاستی خدمات کے امتحان 2019 سے 2025 تک کی 277 آسامیاں، ریاستی جنگلاتی خدمات کے امتحان 2020 سے 2024 تک کی 31 آسامیاں اور اسسٹنٹ پروفیسر بھرتی امتحان 2022 کی 120 آسامیاں شامل ہیں۔ اسسٹنٹ پروفیسر بھرتی امتحان 2024 کی 250 آسامیاں بھی متاثر بتائی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ اسسٹنٹ انجینئر بھرتی امتحان 2020 کی 8، سال 2021 کی 58، میڈیکل افسر بھرتی کی 90 اور اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پراسیکیوشن افسر (اے ڈی پی او) بھرتی کی 33 آسامیوں کا بھی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے۔ ان آسامیوں کے علاوہ کمیشن کی دیگر بھرتیوں پر بھی ریزرویشن تنازع کا اثر پڑا۔

وہیں ملازمین کے انتخابی بورڈ کے مختلف امتحانات میں 8,150 آسامیاں روک دی گئی ہیں۔ ان میں پولیس کانسٹیبل بھرتی، اساتذہ کی بھرتی، محکمۂ صحت اور دیگر محکموں کے امتحانات شامل ہیں۔

پولیس کانسٹیبل بھرتی امتحان 2023 کی 965 اور سال 2025 کی 975 آسامیاں زیر التوا بتائی گئی ہیں۔ پولیس سب انسپکٹر اور صوبیدار بھرتی کی 75 آسامیاں بھی متاثر ہیں۔ محکمۂ صحت کے اسٹاف نرس اور اے این ایم امتحان 2023 کی 600 اور اسٹاف نرس بھرتی 2024 کی 99 آسامیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

جنگلاتی محافظ اور جیل وارڈر بھرتی امتحان 2022-23 کی 250 آسامیاں اور گروپ-4 اسسٹنٹ گریڈ و اسٹینو بھرتی 2023 کی 300 آسامیاں بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

اساتذہ کی بھرتی میں بھی بڑی تعداد میں آسامیاں متاثر ہوئی ہیں۔ اعلیٰ ثانوی استاد بھرتی زمرہ-1، 2023 کی 514 آسامیاں، استاد بھرتی زمرہ-2، 2018 کی 573 آسامیاں، استاد بھرتی زمرہ-3، 2020 کی 882 آسامیاں اور ثانوی استاد بھرتی امتحان 2024 کی 823 آسامیاں زیر التوا بتائی گئی ہیں۔ پرائمری ٹیچر سلیکشن امتحان 2025 کی 1,011 آسامیاں بھی اسی زمرے میں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ گروپ-2 اور گروپ-3، آئی ٹی آئی ٹریننگ افسر، زرعی توسیعی افسر، خواتین سپروائزر، ایکسائز کانسٹیبل، جونیئر انجینئر اور بجلی کے محکمے کی بھرتیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ریزرویشن تنازع کی وجہ سے طویل عرصے سے نتائج اور تقرریوں کا انتظار کرنے والے امیدواروں کی نظریں اب آئندہ کارروائی پر لگی ہوئی ہیں۔

سیاسی ٹکراؤ دوبارہ تیز ہونے کے امکانات

ریزرویشن کا یہ معاملہ ابتدا ہی سے ریاست کی سیاست میں اہم رہا ہے۔ سال 2019 میں ریزرویشن بڑھانے کا فیصلہ اس وقت کی کانگریس حکومت نے لیا تھا۔ اس کے بعد بھی ریاستی سیاست میں اس مسئلے پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری رہا۔

ہائی کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد کانگریس نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی نے 27 فیصد ریزرویشن کا فائدہ نافذ کرانے کے تئیں اپنی وابستگی بھی ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب بی جے پی کی طرف سے اس فیصلے کے لیے اس وقت کی کانگریس حکومت کے بنائے گئے قانون کی آئینی خامیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس طرح قانونی تنازع کے ساتھ سیاسی جواب دہی کا سوال بھی دوبارہ سامنے آ گیا ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

مدھیہ پردیش میں او بی سی ریزرویشن کا اگلا مرحلہ تین محاذوں پر طے ہوگا۔

پہلا، روکی گئی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے بھرتی ادارے کتنی تیزی سے کارروائی کرتے ہیں۔

دوسرا، سپریم کورٹ میں مجوزہ چیلنج کے بعد اس معاملے میں قانونی رخ کیا اختیار کرتا ہے۔

تیسرا، حکومت اور سیاسی جماعتیں پسماندہ طبقے کی نمائندگی سے متعلق سوالات کا حل کس بنیاد پر پیش کرتی ہیں۔

اس پورے معاملے میں سب سے اہم پہلو ان نوجوانوں کا ہے، جو برسوں سے سرکاری ملازمت کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کے لیے ریزرویشن کی بحث محض فیصد کا حساب نہیں، بلکہ انتخاب، تقرری اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے جڑا سوال ہے۔ اس معاملے کے حتمی سیاسی اور سماجی اثرات آنے والے مہینوں میں ہونے والی قانونی کارروائی اور بھرتی کے عمل پر عمل درآمد سے واضح ہوں گے۔

اس معاملے میں او بی سی مہاسبھا کی قومی کور کمیٹی کے رکن اور عرضی گزار لوکیندر گُرجَر کا کہنا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے او بی سی طبقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ریاست گیر تحریک شروع کرنے کی بات بھی کہی ہے۔

وہیں ریاست کے ایڈووکیٹ جنرل پرشانت سنگھ کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ نے دستاویزات، اعداد و شمار اور جدولوں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تنازع پسماندہ طبقے کے ریزرویشن کے خلاف نہیں، بلکہ اسے 14 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کرنے کے فیصلے سے متعلق ہے۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کا کہنا ہے کہ کانگریس حکومت نے 27 فیصد ریزرویشن نافذ کرنے کے لیے آرڈیننس لانے میں جلد بازی کی تھی اور اس کی دفعات میں قانونی خامیاں تھیں۔ اس وقت کی حکومت نے آرڈیننس جاری کرنے سے پہلے قومی پسماندہ طبقات کمیشن سے مشورہ بھی نہیں کیا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت ہائی کورٹ کے فیصلے کا قانونی جائزہ لے گی اور اس کے بعد آئندہ کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande