
نئی دہلی، 12 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی کی سڑکوں پر حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں، ہاتھوں میں پلے کارڈز لیے مظاہرین اور انصاف کا مطالبہ کرنے والی تحریکوں کی پہچان رہا جنتر منتر اب اپنی پرانی شکل میں نظر نہیں آئے گا۔ دہلی پولیس نے 12 اکتوبر کو جاری حکم کے ذریعے جنتر منتر کو مظاہروں کے لیے مقررہ مقام کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی راجدھانی میں دھرنے اور مظاہروں کے لیے رام لیلا میدان، براڑی گراؤنڈ اور مشرقی دہلی کے سی بی ڈی گراؤنڈ کو متبادل مقامات کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔
یہ تبدیلی صرف مظاہروں کے مقامات کے انتظام میں تبدیلی نہیں ہے، بلکہ اس جگہ کی تاریخ سے بھی جڑی ہوئی ہے، جس نے کئی دہائیوں تک ملک کی سماجی، سیاسی اور جمہوری تحریکوں کو پلیٹ فارم فراہم کیا۔ بدعنوانی کے خلاف انا ہزارے کی تحریک ہو، تمل ناڈو کے کسانوں کی جدوجہد ہو یا ہندوستانی کشتی کے مشہور پہلوانوں کا دھرنا، جنتر منتر ایسی کئی تحریکوں کا گواہ رہا ہے، جن کی گونج پارلیمنٹ سے لے کر ملک کے دور دراز دیہات تک سنائی دی۔
تاہم، جنتر منتر کی کہانی کا آغاز تحریکوں سے نہیں ہوا تھا۔ تقریباً 300 سال پہلے اسے فلکیاتی حساب کتاب اور سائنسی مطالعے کے مقصد سے تعمیر کیا گیا تھا۔ وقت کے ساتھ اس کی شناخت بدلتی گئی اور یہ تاریخی رصدگاہ جمہوری احتجاج کی اہم علامتوں میں شامل ہوگئی۔
جنتر منتر کی تاریخ: سائنس سے جمہوری احتجاج تک
دہلی کے جنتر منتر کی تاریخ 18ویں صدی سے وابستہ ہے۔ جے پور کے مہاراجہ سوائی جے سنگھ دوم نے تقریباً 1724 میں اسے تعمیر کروایا تھا۔ اس وقت فلکیات کے مطالعے، سورج اور سیاروں کی پوزیشن معلوم کرنے اور وقت کا حساب لگانے کے لیے بڑی تعمیراتی ساختوں اور خصوصی آلات کا استعمال کیا جاتا تھا۔ جنتر منتر میں نصب آلات آج بھی اس دور کے سائنسی علم اور تعمیراتی مہارت کی گواہی دیتے ہیں۔ ان کی مدد سے وقت، سورج کی پوزیشن اور اجرامِ فلکی سے متعلق حساب کتاب کیا جاتا تھا۔ یہ احاطہ اس بات کی مثال ہے کہ ہندوستانی حکمرانوں نے سائنس اور ریاضی کے مطالعے کو تعمیراتی فن کے ساتھ کس طرح جوڑا تھا۔
مہاراجہ سوائی جے سنگھ دوم نے فلکیاتی مطالعے کو فروغ دینے کے لیے دہلی کے علاوہ جے پور، اجین، وارانسی اور متھرا میں بھی رصدگاہیں تعمیر کروائی تھیں۔ ان کا مقصد فلکیاتی واقعات کا مطالعہ کرنا اور حساب کتاب کو زیادہ درست بنانا تھا۔ لیکن جس مقام کو آسمان میں سیاروں اور ستاروں کی حرکت سمجھنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، وہی آگے چل کر زمین پر عام لوگوں کی آواز سننے کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ سائنس سے شروع ہونے والا اس کا سفر آہستہ آہستہ جمہوریت، عوامی شرکت اور سیاسی اختلافِ رائے کی کہانی سے جڑ گیا۔
آزادی کے بعد دہلی میں بڑے سیاسی اور سماجی مظاہروں کے لیے بوٹ کلب کا علاقہ ایک اہم مقام ہوا کرتا تھا۔ پارلیمنٹ اور راشٹرپتی بھون کے قریب ہونے کی وجہ سے اس علاقے کو بڑے عوامی اجتماعات اور سیاسی جلسوں کے لیے موزوں سمجھا جاتا تھا۔ 1988 میں کسان رہنما مہندر سنگھ ٹکیت کی قیادت میں بوٹ کلب پر ایک بڑی کسان تحریک چلائی گئی۔ اس میں بڑی تعداد میں کسان شریک ہوئے اور زرعی مطالبات کے حوالے سے حکومت پر دباؤ ڈالا۔ اس تحریک نے ایک بار پھر راجدھانی میں بڑے عوامی مظاہروں کی طاقت کو نمایاں کیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ بوٹ کلب کے علاقے میں بڑے مظاہروں پر پابندیاں اور ضابطے سخت ہونے لگے۔ سکیورٹی، ٹریفک اور سرکاری عمارتوں کے آس پاس نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ضرورت کے پیش نظر مظاہروں کے لیے دوسرے مقامات تلاش کیے گئے۔ اسی پس منظر میں جنتر منتر مظاہرین کے ایک اہم ٹھکانے کے طور پر ابھرا۔ پارلیمنٹ کے نسبتاً قریب ہونے کی وجہ سے یہاں مظاہرہ کرنے والی تنظیموں کو سیاسی قیادت اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کا موقع ملتا تھا۔
آہستہ آہستہ جنتر منتر دہلی میں پُرامن احتجاج، دھرنوں اور بھوک ہڑتالوں کا ایک معروف مرکز بن گیا۔ چھوٹی سماجی تنظیموں سے لے کر کسان گروپوں، طلبہ تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور شہری حقوق کے کارکنوں تک نے یہاں اپنے مطالبات اٹھائے۔ اس مقام کی خاص بات یہ تھی کہ محدود وسائل رکھنے والی تنظیمیں بھی یہاں بیٹھ کر اپنی بات کو عوامی بحث کا حصہ بنانے کی کوشش کرسکتی تھیں۔
2011 کی انا ہزارے تحریک: ایک اہم موڑ
جنتر منتر کی جدید تاریخ میں 2011 کی انا ہزارے تحریک ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ بدعنوانی کے خلاف اور جن لوک پال قانون کے مطالبے کو لے کر سماجی کارکن انا ہزارے نے یہاں بھوک ہڑتال کی۔ اس تحریک کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہوئی اور بدعنوانی کا مسئلہ قومی سیاسی بحث کے مرکز میں آگیا۔
انا ہزارے کے ساتھ اروند کیجریوال، پرشانت بھوشن سمیت کئی سماجی کارکن اور تحریک چلانے والے افراد وابستہ ہوئے۔ ملک کے مختلف شہروں میں لوگوں نے مظاہرے کیے اور جن لوک پال قانون کے مطالبے کے لیے مہم چلائی۔ اس تحریک کی خاص بات یہ تھی کہ جنتر منتر سے اٹھنے والی آواز جلد ہی قومی بحث کا حصہ بن گئی۔ میڈیا کوریج، سوشل میڈیا اور عام لوگوں کی شرکت نے اس تحریک کو وسیع پیمانے پر پھیلایا۔
انا ہزارے کی تحریک نے جنتر منتر کی شناخت کو ایک نئی جہت دی۔ یہ محض راجدھانی میں مظاہرے کرنے کی جگہ نہیں رہا، بلکہ ایسا پلیٹ فارم بن گیا جہاں سے اٹھنے والی آواز ملک بھر کے لوگوں تک پہنچ سکتی تھی۔ اس کے بعد بھی مختلف تنظیموں نے بھوک ہڑتالوں اور دھرنوں کے ذریعے حکومت کی توجہ اپنے مطالبات کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی۔
کسانوں کی تحریکوں سے ملا قومی سطح پر شناخت
جنتر منتر پر مختلف اوقات میں کئی کسان تنظیموں نے اپنے مسائل کو لے کر مظاہرے کیے۔ 2017 میں تمل ناڈو کے کسانوں کی تحریک خاص طور پر خبروں میں رہی۔ کسانوں نے قرض، خشک سالی، فصلوں کے نقصان اور زرعی بحران سے متعلق مطالبات کو لے کر راجدھانی میں دھرنا دیا۔ مظاہرے کے دوران کسانوں نے اپنے مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے کئی منفرد طریقے اپنائے۔ ان کے مطالبات قومی میڈیا میں نمایاں طور پر سامنے آئے اور زرعی بحران پر سیاسی بحث تیز ہوگئی۔
کسانوں کے علاوہ ملازمین، طلبہ، سماجی تنظیموں اور مختلف برادریوں سے وابستہ گروپوں نے بھی جنتر منتر پر مظاہرے کیے۔ کسی کا مطالبہ روزگار سے متعلق تھا، تو کوئی سرکاری پالیسیوں کی مخالفت میں یہاں پہنچا۔ بعض تنظیمیں سماجی انصاف اور حقوق سے متعلق مسائل اٹھانے آئیں۔ یہی تنوع جنتر منتر کی سب سے بڑی پہچان بنا۔ یہاں مظاہرہ کرنے والوں کا پس منظر اور مطالبات مختلف ہوتے تھے، لیکن اپنی بات عوام کے سامنے رکھنے کا پلیٹ فارم ایک ہی تھا۔
2019 میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ دہلی میں بھی اس معاملے پر کئی مقامات پر مظاہرے کیے گئے اور جنتر منتر پر بھی احتجاج کی آواز سنائی دی۔ اس کے علاوہ خواتین کی سلامتی، سماجی مساوات، شہری حقوق اور سرکاری فیصلوں کے خلاف مختلف گروپوں نے وقتاً فوقتاً یہاں اپنے مطالبات پیش کیے۔
جنتر منتر کا کردار صرف احتجاج درج کرانے تک محدود نہیں رہا۔ یہاں ہونے والے مظاہروں کے ذریعے ایسے موضوعات بھی عوامی بحث میں آئے، جنہیں تحریک چلانے والے گروپ قومی سطح پر اٹھانا چاہتے تھے۔ کئی بار یہاں مظاہرہ کرنے والوں کے مطالبات سیاسی جماعتوں کے درمیان بحث کا موضوع بنے، تو کئی مرتبہ حکومتوں کو جواب دینا پڑا۔ تاہم، ہر تحریک کا نتیجہ یکساں نہیں رہا۔ کچھ تحریکوں کو وسیع عوامی حمایت ملی، جبکہ کچھ محدود دائرے تک ہی رہیں۔ اس کے باوجود جنتر منتر نے مختلف گروپوں کو اپنی بات عوام تک پہنچانے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا۔
2023 میں پہلوانوں کا دھرنا بھی تاریخ کا حصہ بنا
2023 میں ہندوستانی کشتی کی دنیا کے معروف پہلوانوں کا دھرنا جنتر منتر کی تاریخ کے اہم واقعات میں شامل ہوگیا۔ اولمپک تمغہ جیتنے والی ساکشی ملک، ونیش پھوگاٹ اور بجرنگ پونیا سمیت کئی پہلوانوں نے ہندوستانی کشتی فیڈریشن کے اس وقت کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی استحصال کے الزامات عائد کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
پہلوانوں کا یہ احتجاج کئی ہفتوں تک جاری رہا۔ اس دوران کھیلوں کی دنیا سے وابستہ افراد، سماجی تنظیموں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ مظاہرے کے دوران پولیس اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں نے بھی وسیع بحث کو جنم دیا۔
مظاہروں کے حوالے سے تنازعات اور قانونی بحث
جنتر منتر پر ہونے والے مظاہروں کو لے کر تنازعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ آس پاس رہنے والے لوگوں نے شور و غل، عوامی پریشانی اور ٹریفک جیسے مسائل کے حوالے سے شکایات کی تھیں۔ ان مسائل کی وجہ سے یہاں مظاہروں کی اجازت اور ان کے ضابطوں کو لے کر قانونی بحث شروع ہوئی۔
2017 میں نیشنل گرین ٹریبونل نے جنتر منتر کے علاقے میں مظاہروں کے حوالے سے پابندیوں کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔ جولائی 2018 میں سپریم کورٹ نے جنتر منتر اور بوٹ کلب کے علاقے میں پُرامن مظاہروں پر مکمل پابندی عائد کرنے کے بجائے مناسب ضابطے اور رہنما اصول وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس قانونی بحث کا بنیادی سوال یہ تھا کہ شہریوں کو پُرامن احتجاج کا حق کس طرح دیا جائے اور اس کے ساتھ ہی عوامی نظم و ضبط، سکیورٹی اور آس پاس رہنے والے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے۔
اب رام لیلا میدان، براڑی اور سی بی ڈی گراؤنڈ ہوں گے متبادل مقامات
دہلی پولیس کے 12 اکتوبر کے حکم کے مطابق، جنتر منتر کو مظاہروں کے لیے مقررہ مقام کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دھرنوں اور مظاہروں کے لیے تین متبادل مقامات مقرر کیے گئے ہیں۔
رام لیلا میدان: راجدھانی میں بڑے سیاسی، سماجی اور عوامی پروگراموں کا ایک پرانا مرکز ہے۔ یہاں مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے بڑے جلسے ہوتے رہے ہیں۔ ماضی میں بھی اس میدان نے کئی بڑی تحریکوں کو جگہ فراہم کی ہے۔
براڑی گراؤنڈ: دہلی کے بیرونی علاقے میں واقع یہ مقام بڑے اجتماعات اور منظم پروگراموں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ اسے متبادل مظاہرہ مقام کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔
سی بی ڈی گراؤنڈ: مشرقی دہلی میں واقع اس مقام کو بھی دھرنوں اور مظاہروں کے لیے متبادل جگہ بنایا گیا ہے۔ اس سے راجدھانی کے مختلف حصوں سے آنے والی تنظیموں کو ایک اور مقام دستیاب ہوگا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ جنتر منتر کی خاص بات یہ تھی کہ پارلیمنٹ اور لٹینس زون کے تمام دفاتر قریب ہونے کی وجہ سے یہاں ہونے والے مظاہروں کو اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا کی توجہ آسانی سے حاصل ہوجاتی تھی۔ مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دیتے تھے، صحافی ان سے بات چیت کرتے تھے اور کئی مرتبہ یہ تحریکیں قومی بحث کا حصہ بن جاتی تھیں۔
نئے مقررہ مقامات پر مظاہرے ہونے سے تحریک چلانے والوں کی حکمتِ عملی میں تبدیلی آسکتی ہے۔ تنظیموں کو اپنے احتجاج کی منصوبہ بندی کرتے وقت مقام تک رسائی، آمدورفت، سکیورٹی کے انتظامات اور میڈیا کوریج جیسے پہلوؤں پر غور کرنا ہوگا۔ انتظامیہ کے سامنے بھی یہ چیلنج رہے گا کہ مقررہ مقامات پر مظاہرے منظم طریقے سے ہوسکیں اور شہریوں کو اپنی بات رکھنے کا عملی موقع ملتا رہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی