(اپڈیٹ) سپریم کورٹ کا وزارت داخلہ کو نوٹس، توہین عدالت کی کارروائی پر دو دنوں میں جواب طلب
نئی دہلی، 11 اکتوبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے دہلی میں 10 اکتوبر کو احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کارروائی، مظاہرین کو حراست میں لیے جانے، میٹرو و ریل سروسز اور انٹرنیٹ خدمات کو بند یا معطل کرنے کے خلاف دائر توہین عدالت کی عرضی پر اتوار کے روز خصو
سپریم کورٹ میںرام مندر چندہ چوری کیس کی سماعت 13 جولائی کو


نئی دہلی، 11 اکتوبر (ہ س)۔

سپریم کورٹ نے دہلی میں 10 اکتوبر کو احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کارروائی، مظاہرین کو حراست میں لیے جانے، میٹرو و ریل سروسز اور انٹرنیٹ خدمات کو بند یا معطل کرنے کے خلاف دائر توہین عدالت کی عرضی پر اتوار کے روز خصوصی سماعت کی۔ عدالت نے 9 اکتوبر کے اپنے حکم کی خلاف ورزی کے الزامات پر متعلقہ افسران کو وجہ بتاو نوٹس جاری کیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔ عدالت نے افسران کو حلف نامہ داخل کر کے جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت منگل کو ہوگی۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم پر عمل نہ کرنے کے الزامات پر وزارت داخلہ، دہلی پولیس اور ڈی ایم آر سی کے متعلقہ افسران کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے پوچھا کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔ افسران کو اس سلسلے میں حلف نامہ داخل کرنا ہوگا۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے نوٹس جاری کرنے پر اعتراض کیا، لیکن عدالت نے معاملے سے متعلق تمام فریقوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینے کی بات کہی۔

جسٹس جوئے مالیا باگچی کی سربراہی والی بینچ نے کہا کہ دہلی میں میٹرو اور ریل خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں گی کیونکہ ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس باگچی نے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) سے ان اسٹیشنوں کا نقشہ طلب کیا جہاں داخلہ اور اخراج بند یا محدود کیے گئے تھے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ پہلے 57 اسٹیشن بند کرنے کی بات تھی، پھر 45 اسٹیشنوں پر ہی پابندی کیوں لگائی گئی۔ عدالت یہ سمجھنا چاہتی ہے کہ کن اسٹیشنوں پر روک لگائی گئی اور کن کو کھلا رکھا گیا، تاکہ مسافروں کو پیش آنے والی پریشانی کا اندازہ لگایا جا سکے۔

عدالت نے کہا کہ امن و امان بگڑنے کے خدشے کی صورت میں قواعد کے مطابق ضروری پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ٹریفک قوانین کے تحت شہر میں لوگوں کو آمد و رفت کی اجازت ہوگی۔ شہر میں شہریوں کی بلا روک ٹوک آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی اور قانون کے مطابق اس کی اجازت ہوگی۔ عدالت نے کہا کہ نظم و نسق اور ٹریفک کی دیگر صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے بیریکیڈز لگانے کی ضرورت کا فوری جائزہ لیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ قانون کے مطابق انٹرنیٹ کی سہولیات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ قانونی طریقہ کار کے بغیر کسی کو بھی غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں لیا جائے گا، خاص طور پر ان علاقوں کے باہر جہاں لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ شہریوں کو قانون کے مطابق جمع ہونے کی اجازت ہوگی، بالخصوص ان علاقوں کے باہر جہاں دفعہ 163 نافذ ہے، وہاں پرامن طریقے سے جمع ہونے کی اجازت قانون کے مطابق دی جائے گی۔

عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ سپریم کورٹ کے باہر لگا وہ بورڈ ہٹا دیا جائے جس پر درج تھا کہ دفعہ 163 نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت پانچ یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔ عدالت نے مظاہرین کو بھی یاد دلایا کہ احتجاجی مظاہرے پرامن طریقے سے ہونے چاہئیں اور ان سے دوسروں کو اشتعال نہیں ملنا چاہیے۔

سپریم کورٹ میں شلبھ مَنی ترپاٹھی کی توہین عدالت کی درخواست کے علاوہ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور سینئر وکیل مینکا گروسوامی نے بھی عرضی دائر کی تھی۔ اس میں احتجاجی مظاہروں کے دوران اپوزیشن لیڈروں (جن میں چار سابق وزرائے اعلیٰ بھی شامل تھے) اور دیگر افراد کی احتیاطی حراست کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست میں انفرادی آزادی اور پرامن احتجاج کے حق سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔

امن پرساد کی جانب سے دائر عرضی میں دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار کے خلاف توہین عدالت کا الزام لگایا گیا تھا۔ درخواست میں مظاہرین کے خلاف پولیس کی غیر ضروری و حد سے زیادہ کارروائی کا الزام عائد کیا گیا۔ عرضی میں کہا گیا کہ نہتے لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی گئی اور انہیں حراست میں لیا گیا، پولیس اہلکار شناخت کے بیجز کے بغیر فرائض انجام دے رہے تھے اور خواتین مظاہرین کے ساتھ مرد افسران نے بدسلوکی کی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 8 اکتوبر کو کہا تھا کہ 10 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج سے قبل دہلی میں میٹرو اسٹیشن پوری طرح بند نہیں کیے جائیں گے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بینچ نے مرکزی حکومت سے کہا تھا کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ احتجاج سے قبل دہلی کے لیے ٹرین خدمات مکمل طور پر معطل نہ ہوں اور دہلی میٹرو کے اسٹیشن بھی بند نہ کیے جائیں۔ عدالت نے حکومت سے کہا تھا کہ ریل اور میٹرو سروسز کو کنٹرول طریقے سے جاری رکھنے کی اجازت دی جائے، تاکہ عام شہریوں کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔ اسی حکم پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کے سبب آج توہین عدالت کی عرضی پر خصوصی سماعت کی گئی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande