
شملہ، 11 اکتوبر (ہ س)۔
ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے کہا ہے کہ انصاف کا حقیقی مقصد سماج کے کمزور طبقات تک انصاف پہنچانا، ضرورت مندوں کی آواز سننا اور ہر شہری کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے اتوار کو ہماچل پردیش نیشنل لا یونیورسٹی (این ایل یو)، شملہ کی تیسری کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انصاف صرف عدالتی احکامات تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے غیر جانب داری، دانش مندی اور ہر معاملے کے حالات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس ایم ایم سندریش نے قانون کے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ انصاف اور قانون کے تئیں احترام برقرار رکھیں اور مصنوعی ذہانت(اے آئی) جیسی نئی ٹیکنالوجی کے مطابق خود کو تیار کریں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ طلبہ کی کامیابی کا اندازہ ان کی پیشہ ورانہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ سماج اور ملک کے لیے ان کی خدمات کی بنیاد پر بھی لگایا جائے گا۔ انہوں نے طلبہ سے ایمانداری، پختہ عزم اور مسلسل کوششوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ہماچل پردیش یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے اور قانون کی تعلیم ان کی سیاسی زندگی میں بھی مفید ثابت ہوئی ہے۔سکھو نے کہا کہ ریاستی حکومت عام شہریوں کو مقررہ وقت میں انصاف فراہم کرنے کے لیے عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کے تئیں پابند عہد ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تینوں ستونوں کا مقصد شہریوں کی خدمت کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بھرتی کے قواعد اور ملازمین کے مالی فوائد سے متعلق عدالتی احکامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2003 میں حکومت نے کنٹریکٹ ملازمین کو سینیارٹی اور تنخواہ میں اضافے کے فوائد نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کے مطابق، تقریباً دو دہائیوں بعد عدالت نے بھرتی کے قواعد میں واضح شق موجود نہ ہونے کے باوجود مالی فوائد فراہم کرنے کی ہدایت دی، جس سے ریاستی خزانے پر اضافی بوجھ پڑا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملازمین کے واجب الادا فوائد ادا کرنے کے ساتھ ریاست کی مالی صورت حال کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے پہاڑی ریاست میں کھیل کے میدانوں کے لیے زمین کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے اسکولوں اور کمیونٹی کے کھیل کے میدانوں کو مشترکہ طور پر استعمال کرنے پر زور دیا۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے یوم آزادی کی تقریب کے انعقاد کے لیے پہلی مرتبہ پانچ لاکھ روپے ادا کیے۔ ہائی کورٹ نے ایک سرکاری اسکول کے میدان کو استعمال کرنے کی اجازت مقررہ رقم کی ادائیگی کی شرط پر دی تھی۔
جسٹس ایم ایم سندریش نے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ کو ’سماجی انجینئر، سماجی ڈاکٹر اور سماجی معمار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سماج کے تئیں ان کی خصوصی ذمہ داری ہے۔انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ قانونی علم کے ساتھ سماجی ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کریں اور مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مہارت حاصل کریں۔تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو طلائی تمغے عطا کیے۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس گرمیت سنگھ سندھاولیا نے طلبہ کو ڈگریاں پیش کیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan