مظاہرین کوغیر قانونی طور پر حراست میں نہ لیا جائے، ریل، میٹرو اور انٹرنیٹ خدمات بحال رکھی جائیں: سپریم کورٹ
نئی دہلی، 11 اکتوبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے اتوار کو دہلی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران 10 اکتوبر کو میٹرو اسٹیشن بند کیے جانے کے خلاف دائر توہینِ عدالت کی عرضی پر خصوصی سماعت کی۔ جسٹس جوی مالیا باگچی کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ میٹرو اور ریل خدمات م


کورٹنئی دہلی، 11 اکتوبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے اتوار کو دہلی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران 10 اکتوبر کو میٹرو اسٹیشن بند کیے جانے کے خلاف دائر توہینِ عدالت کی عرضی پر خصوصی سماعت کی۔ جسٹس جوی مالیا باگچی کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ میٹرو اور ریل خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں گی، سوائے ان حالات کے جب آئین کے آرٹیکل 19(2) کے تحت امنِ عامہ میں خلل کے خدشے کے پیش نظر ضابطوں کا نفاذ ضروری ہو۔ سپریم کورٹ نے دہلی کے حکام سے جواب طلب کیا کہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔

عدالت نے کہا کہ ٹریفک قوانین کے تحت شہر میں لوگوں کی آمد و رفت کی اجازت ہوگی۔ شہریوں کی نقل و حرکت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی اور قانون کے مطابق انہیں آمد و رفت کی اجازت دی جائے گی۔ عدالت نے کہا کہ امن و امان اور ٹریفک کی دیگر صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے بیریکیڈ لگانے کی ضرورت کا فوری جائزہ لیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ انٹرنیٹ خدمات بلا کسی رکاوٹ کے جاری رہیں گی۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ قانون میں طے شدہ طریقۂ کار پر عمل کیے بغیر کسی کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں لیا جائے گا، خاص طور پر ان علاقوں سے باہر جہاں لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ قانون کے مطابق لوگوں کو اجتماع کی اجازت ہوگی۔ خصوصاً ان علاقوں سے باہر جہاں دفعہ 163 نافذ ہے، وہاں پُرامن طریقے سے جمع ہونے کی اجازت قانون کے مطابق دی جائے گی۔

عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ سپریم کورٹ کے باہر نصب وہ بورڈ ہٹا دیا جائے جس پر لکھا تھا کہ دفعہ 163 نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔ عدالت نے مظاہرین کو یہ بھی یاد دلایا کہ احتجاجی مظاہرے پُرامن ہونے چاہئیں اور ان کے ذریعے دوسروں کو اشتعال نہیں دلایا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ میں شلبھ منی ترپاٹھی کی توہینِ عدالت کی عرضی کے علاوہ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور سینئر وکیل مینکا گرو سوامی نے بھی عرضی دائر کی تھی۔ اس میں احتجاجی مظاہروں کے دوران اپوزیشن رہنماؤں، جن میں چار سابق وزرائے اعلیٰ بھی شامل تھے اور دیگر افراد کو احتیاطی طور پر حراست میں لیے جانے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عرضی میں شخصی آزادی اور پُرامن احتجاج کے حق سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔

امن پرساد کی جانب سے دائر عرضی میں دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار کے خلاف توہینِ عدالت کا الزام لگایا گیا تھا۔ عرضی میں مظاہرین کے خلاف پولیس کی مبینہ حد سے زیادہ کارروائی کا الزام عائد کیا گیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ غیر مسلح افراد کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور انہیں حراست میں لیا گیا، پولیس اہلکار شناختی بیج کے بغیر کام کر رہے تھے اور خواتین مظاہرین کے ساتھ مرد اہلکاروں نے بدسلوکی کی۔

واضح رہے کہ 8 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ 10 اکتوبر کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے سے پہلے دہلی میں میٹرو اسٹیشن مکمل طور پر بند نہیں کیے جائیں گے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے مرکزی حکومت سے کہا تھا کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ احتجاج سے قبل دہلی کے لیے ٹرین خدمات مکمل طور پر بند نہ ہوں اور دہلی میٹرو کے اسٹیشن بھی بند نہ کیے جائیں۔

عدالت نے حکومت سے کہا تھا کہ ریل اور میٹرو خدمات کو منظم طریقے سے جاری رکھنے کی اجازت دی جائے، تاکہ عام لوگوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande