
نئی دہلی، 11 اکتوبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے نئے نظریات اور حل نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ ہندوستان میں لامحدود مواقع موجود ہیں اور ہر نوجوان کو اپنے مستقبل کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہی آپ کا وقت ہے، یہی آپ کا موقع ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ خواب حقیقت بنے گا۔ ہم سب مل کر اسے پورا کرکے دکھائیں گے۔‘‘
وزیر اعظم نے آج چنئی میں واقع جے گوپال گاروڈیا ہندو ودیالیہ میٹرکولیشن ہائر سیکنڈری اسکول کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت کی اور وہاں موجود لوگوں سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے نوجوانوں سے کھیل، تعلیم اور اختراع کے شعبوں میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے اور ملک کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان ترقی یافتہ ہندوستان کی طاقت بننا چاہتا ہے۔ ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے جن نئے نظریات اور حل کی ضرورت ہے، ان سے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کا مستقبل بھی وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں آج بے شمار مواقع موجود ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ہر نوجوان اپنے مستقبل کو وسیع امکانات کے تناظر میں دیکھے، کیونکہ یہ ان کا وقت اور ان کا موقع ہے۔ انہیں پورا یقین ہے کہ ملک کا یہ خواب ضرور پورا ہوگا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں کھیلوں کے لیے نئی سہولتیں تیار کی جا رہی ہیں۔ نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر تربیت اور تعاون فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے بین الاقوامی کھیلوں میں ہندوستان کی پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان 2030 میں دولت مشترکہ کھیلوں کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک 2036 کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی کے خواب کو پورا کرنے کے لیے بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ملک کے نوجوان کھیلوں کی دنیا میں ہندوستان کو نئی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔
وشو ہندو ودیا کیندر کے قیام کے 50 سال مکمل ہونے کے موقع پر وزیر اعظم نے اسکول کی عمارت کی تعمیر میں اہم تعاون دینے والے جے گوپال گاروڈیا کو یاد کیا۔ انہوں نے ادارے کے سفر کو کامیاب بنانے والے اساتذہ، ملازمین، والدین اور سابق طلبہ کی بھی ستائش کی۔انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ محب وطن شہریوں کی تیاری کی بھی ایک مثال ہے۔وزیر اعظم نے گریجا اماں کی پہل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بچوں کو روزانہ ایک روپیہ بچا کر ملک کے فوجیوں کے لیے عطیہ کرنے کی ترغیب دی تھی۔ اس مہم میں ہزاروں بچوں کے شامل ہونے سے تقریباً 40 لاکھ روپے جمع ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی چھوٹی کوششیں بھی بڑی تبدیلیوں کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ ضرورت مندوں کی مدد اور صفائی مہم میں حصہ لینے جیسے خدمت کے اقدار بھی اس اسکول کی شاندار روایت کا حصہ ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کے ذریعے ملک میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ ہندوستانی تعلیمی اداروں کی عالمی شناخت بھی مضبوط ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2015 کی کیو ایس رینکنگ میں ہندوستان کی 14 یونیورسٹیاں شامل تھیں، جبکہ تازہ ترین رینکنگ میں یہ تعداد بڑھ کر 52 ہوگئی ہے۔ اس سے طلبہ کے لیے تعلیم کے مزید متبادل اور مواقع پیدا ہوئے ہیں۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ 2014 میں ملک میں تقریباً 750 یونیورسٹیاں تھیں، جن کی تعداد اب بڑھ کر 1,300 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اسی مدت میں کالجوں کی تعداد بھی تقریباً 38 ہزار سے بڑھ کر 52 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران ملک میں کئی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم)، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی آئی آئی ٹی) اور آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) قائم کیے گئے ہیں۔
وزیر اعظم نے نوجوانوں سے ملک کے تنوع کو قریب سے سمجھنے اور تمل زبان و ثقافت کو فروغ دینے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ملک کے مختلف علاقوں کا سفر کرنا چاہیے، تمل شاعری، کہانیوں اور روایات کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے اور مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے دوستی کرنی چاہیے۔ ایسی دوستیاں قومی اتحاد کو مضبوط بناتی ہیں۔انہوں نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو تروکُّرل کا روسی زبان میں ترجمہ شدہ نسخہ پیش کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم تصنیف زندگی بھر سیکھتے رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ تروولوور نے اپنی ایک مشہور تخلیق کے ذریعے یہ سبق دیا ہے کہ صرف نیا علم حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ اسے عملی زندگی میں اپنانا بھی ضروری ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جے گوپال گاروڈیا ہندو ودیالیہ میٹرکولیشن ہائر سیکنڈری اسکول کی گولڈن جوبلی تقریب ادارے کی جانب سے پانچ دہائیوں کے دوران تعلیم کے شعبے میں دی گئی خدمات کی علامت ہے۔ یہ ادارہ تعلیمی معیار، نظم و ضبط، ثقافتی اقدار اور ہمہ جہت تعلیم کے ذریعے طلبہ کی کئی نسلوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔اسکول کا نصب العین ’’سا ودیا یا ومکتَیے‘‘ ہے، جس کا مفہوم ہے کہ علم وہ ہے جو انسان کو آزادی عطا کرے۔ اسی نصب العین سے متاثر ہوکر ادارہ ایسے طلبہ تیار کرنے کی کوشش کرتا ہے جو معاشرے کی بہتری میں بامعنی کردار ادا کرسکیں۔وقت کے ساتھ ادارے نے بدلتی ہوئی تعلیمی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالا ہے، تاہم کردار سازی، علم کے حصول اور ذمہ دار شہری بننے کی اقدار پر اس کی توجہ مسلسل برقرار رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan