ہندوستانی بازار پر جاپانی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا، صرف تین ماہ میں پورے سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا
نئی دہلی، 11 اکتوبر (ہ س)۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی اپریل سے جون کے دوران ہندوستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے معاملے میں جاپان نے سنگاپور کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والے ملک کا مقام حاصل کر ل
ہندوستانی بازار پر جاپانی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا، صرف تین ماہ میں پورے سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا


نئی دہلی، 11 اکتوبر (ہ س)۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی اپریل سے جون کے دوران ہندوستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے معاملے میں جاپان نے سنگاپور کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والے ملک کا مقام حاصل کر لیا ہے۔ جاپان نے اس تین ماہ کی مدت میں ہندوستان میں مجموعی طور پر 5.71 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 47 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس لیے بھی اہم ہیں کہ جاپان نے گزشتہ مالی سال 2025-26 کے دوران پورے سال میں ہندوستان میں مجموعی طور پر 3.74 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، لیکن اس بار اس نے محض تین ماہ میں ہی گزشتہ پورے سال کا ریکارڈ توڑ دیا۔

اپریل سے جون کی سہ ماہی کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاملے میں سنگاپور 5.22 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے مقام پر رہا، جبکہ ماریشس 2.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ نیدرلینڈز اور امریکہ نے بالترتیب 1.38 ارب ڈالر اور 1.35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر کئی ممالک سے بھی ہندوستان میں سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی بازار پر دنیا کے بڑے ممالک اور عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کا اعتماد مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اپریل سے جون کی سہ ماہی کے دوران ہندوستان میں مجموعی طور پر 19.81 ارب ڈالر کی ایکویٹی سرمایہ کاری ہوئی، جس میں صرف جاپان کا حصہ تقریباً 29 فیصد رہا۔ یہ سرمایہ کاری ہندوستان اور جاپان کے درمیان مضبوط ہوتے تجارتی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔

جاپان نے ایک دہائی کے اندر ہندوستان میں 10 ٹریلین ین، یعنی تقریباً 7 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا بلند ہدف مقرر کیا ہے۔ گزشتہ ماہ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کے لیے جاپان کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے بتایا تھا کہ جاپانی کمپنیاں اب تک اس بڑے ہدف کے تحت ہندوستان میں ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپانی سرمایہ کار اب ہندوستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے زیادہ سرگرم ہو گئے ہیں۔ فِن ریکس ٹریژری ایڈوائزرز ایل ایل پی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر انیل بھنسالی کے مطابق، عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، ترقی کی سست رفتار اور مینوفیکچرنگ کی بڑھتی لاگت کے باعث جاپانی کمپنیاں کسی ایک ملک پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی سپلائی چین کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایسے میں ہندوستان ان کے لیے ایک محفوظ اور قابل اعتماد مقام کے طور پر ابھرا ہے۔ہندوستان کو اس سرمایہ کاری سے صرف مالی وسائل ہی حاصل نہیں ہو رہے، بلکہ جاپان سے جدید تکنیکی معلومات، پیداواری صلاحیت اور طویل مدتی سرمایہ بھی مل رہا ہے۔

انیل بھنسالی کے مطابق، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سرمایہ کاری میں ہونے والا یہ غیر معمولی اضافہ صرف گرین فیلڈ سرمایہ کاری، یعنی نئی فیکٹریاں قائم کرنے میں لگائے جانے والے سرمائے کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ مالیاتی شعبے میں ہونے والے بڑے سودوں اور کمپنیوں کے حصول نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مثال کے طور پر، اپریل میں جاپان کے ایم یو ایف جی بینک نے ہندوستان کی شری رام فائنانس لمیٹڈ میں 20 فیصد شیئرز خریدنے کے لیے 39,618 کروڑ روپے، یعنی تقریباً 4.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اسے ہندوستان کے مالیاتی خدمات کے شعبے کے بڑے غیر ملکی سودوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بینکاری، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز میں بھی جاپانی سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ جاپانی کمپنیوں کی دلچسپی اب صرف آٹوموبائل کے شعبے تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ ہندوستان کو ایک بڑی صارف منڈی اور اختراع کے مرکز کے طور پر بھی دیکھ رہی ہیں۔ آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سیمی کنڈکٹر، اہم معدنیات، قابل تجدید توانائی، ریلوے اور دفاع جیسے جدید شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

جاپانی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ہندوستانی حکومت نے ملک کی نو ریاستوں میں 12 جاپانی صنعتی ٹاؤن شپ بھی قائم کی ہیں، جہاں سرمایہ کاروں کو سنگل ونڈو کلیئرنس اور جاپانی معیار کے مطابق بنیادی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ ملنے کی امید ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande