
نئی دہلی، 11 اکتوبر(ہ س)۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے زراعت کی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق دو اہم منصوبوں، دالوں کے مشن اور پردھان منتری دھن دھانی کرشی یوجنا (پی ایم ڈی ڈی کے وائی) کے آغاز کو آج ایک سال مکمل ہوگیا۔ ملک کو دالوں کی پیداوار میں مکمل طور پر خود کفیل بنانے اور زرعی پیداوار کے لحاظ سے ملک کے 100 پسماندہ اضلاع میں زرعی نظام کی صورت حال بدلنے کے مقصد سے ان دونوں منصوبوں کا آغاز گزشتہ سال 11 اکتوبر 2025 کو کیا گیا تھا۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ منصوبہ بند کوششوں کے نتیجے میں صرف ایک سال کے اندر ملک میں دالوں کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے، جس سے غیر ملکی درآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اسی طرح زرعی پیداوار کے معاملے میں پسماندہ 100 اضلاع کے زرعی کارکردگی کے اسکور میں بھی غیر معمولی بہتری آئی ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق، 11,440 کروڑ روپے کے مجموعی بجٹ والے دالوں کے مشن کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ یہ منصوبہ 2025-26 سے 2030-31 تک چھ سال کی مدت کے لیے گزشتہ سال 11 اکتوبر کو شروع کیا گیا تھا۔ اس مشن کا مقصد 2030-31 تک ہندوستان کو دالوں کی پیداوار میں مکمل طور پر خود کفیل بنانا ہے۔منصوبے کے آغاز کے بعد ایک سال کے اندر ملک میں دالوں کی پیداوار 2024-25 کے 256.83 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2025-26 میں ریکارڈ 274.09 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حکومت نے 2030-31 تک ملک میں دالوں کی پیداوار 350 لاکھ ٹن اور فی ہیکٹر پیداوار 1,130 کلوگرام تک پہنچانے کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے چھ سال کے دوران مجموعی طور پر 310 لاکھ ہیکٹر رقبے میں دالوں کی کاشت کو وسعت دینے اور کسانوں میں بیجوں کی 87.5 لاکھ کٹس مفت تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔اس مشن کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ایک سال میں ہندوستان کی دالوں کی درآمدات میں 31.52 فیصد کمی آئی ہے۔ درآمدات کی مالیت 46,427.60 کروڑ روپے سے گھٹ کر 31,793.59 کروڑ روپے رہ گئی ہے، جبکہ دالوں کی برآمدات میں 13.40 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ بڑھ کر 969.53 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔
اسی طرح 16 جولائی 2025 کو مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد شروع کی گئی پردھان منتری دھن دھانی کرشی یوجنا (پی ایم ڈی ڈی کے وائی) نے بھی ملک کے 100 پسماندہ زرعی اضلاع کی صورت حال بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ان اضلاع کی شناخت کم زرعی پیداوار، فصلوں کی کم شدت اور زرعی قرضوں کی محدود دستیابی کی بنیاد پر کی گئی تھی، تاکہ ان علاقوں کو معاشی پسماندگی سے نکالا جا سکے۔اس منصوبے کے تحت ملک کی 11 وزارتوں اور محکموں کی 36 مرکزی اسکیموں کو یکجا کرکے مقامی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق ضلع کی سطح پر کام کیا جا رہا ہے۔
حکومت کے مطابق، ان اسکیموں کے باہمی تال میل کے نتیجے میں متعلقہ اضلاع کی صورت حال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اپریل 2026 میں ان 100 اضلاع کا اوسط ترقیاتی اسکور محض 18.85 تھا، جو اگست 2026 میں بڑھ کر 46.89 ہوگیا۔ اس طرح اسکور میں 28.04 پوائنٹس کا اضافہ درج کیا گیا۔اس دوران زرعی پیداوار، فصلوں کے تنوع، آب پاشی، ذخیرہ اندوزی کی سہولتوں اور زرعی قرضوں سمیت تمام چھ اہم پیمانوں پر نمایاں پیش رفت دیکھی گئی ہے۔
منصوبے کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے تین سطحوں پر نگرانی کا انتظام کیا گیا ہے۔ضلع کی سطح پر ضلع کلکٹر یا ضلع مجسٹریٹ کی سربراہی میں قائم کمیٹی ضلع کا عملی منصوبہ تیار کرکے اسے نافذ کرتی ہے۔ ریاستی سطح پر چیف سکریٹری کی سربراہی والی کمیٹی اس کی نگرانی کرتی ہے، جبکہ قومی سطح پر مرکزی وزیر زراعت کی سربراہی میں قومی ایگزیکٹیو کمیٹی اور سکریٹری زراعت کی نگرانی میں قومی مانیٹرنگ کمیٹی اس منصوبے کے نفاذ پر نظر رکھتی ہے۔منصوبے کو مکمل طور پر شفاف بنانے کے لیے اکتوبر 2025 میں ہی ایک خصوصی ڈیش بورڈ شروع کیا گیا تھا، جس کے ذریعے ہر ماہ اضلاع کی درجہ بندی جاری کی جاتی ہے۔ تمام 100 اضلاع نے اگست 2026 تک کے اپنے ترقیاتی اعداد و شمار پیش کر دیے ہیں۔اس منصوبے کی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے محکمہ برائے سرکاری اداروں نے مالی سال 2026-27 اور 2027-28 کے لیے بڑی سرکاری کمپنیوں کی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) سرگرمیوں کے تحت بھی ان اضلاع کو گود لینے کا انتظام شامل کیا ہے۔حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے ان علاقوں میں پائیدار زرعی ترقی کی مضبوط بنیاد قائم ہوگی اور کسانوں کی آمدنی، زرعی پیداوار اور بنیادی سہولتوں میں مزید بہتری لانے میں مدد ملے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan