سیبی نے نافذ کئے نئے سیٹلمنٹ ضوابط ، شفاف فارمولے سے طے ہوگی جرمانے کی رقم
نئی دہلی، 10 اکتوبر (ہ س)۔ شیئر بازار کے نگراں ادارے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے شیئر بازار سے متعلق تنازعات اور ضابطوں کی خلاف ورزی کے معاملات کے تصفیے کے لیے نئے ضوابط نافذ کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں سیبی نے سیٹلمنٹ ریگولیشنز20
سیبی نے نافذ کئے نئے سیٹلمنٹ ضوابط ، شفاف فارمولے سے طے ہوگی جرمانے کی رقم


نئی دہلی، 10 اکتوبر (ہ س)۔

شیئر بازار کے نگراں ادارے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے شیئر بازار سے متعلق تنازعات اور ضابطوں کی خلاف ورزی کے معاملات کے تصفیے کے لیے نئے ضوابط نافذ کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں سیبی نے سیٹلمنٹ ریگولیشنز2026 کو نوٹیفائی کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت چھوٹے معاملات کے جلد تصفیے کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس میں 10 لاکھ روپے تک کی سیٹلمنٹ رقم والے معاملات شامل ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی جرمانے کی رقم طے کرنے کے لیے ایک نیا اور شفاف فارمولا بھی پیش کیا گیا ہے، جس سے تصفیے کا عمل زیادہ واضح اور تیز ہونے کی امید ہے۔نئے ضوابط کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ سیبی نے غیر قانونی کمائی اور سرمایہ کاروں کو پہنچنے والے نقصان کی وصولی کا حساب سیٹلمنٹ کی رقم سے الگ کر دیا ہے۔ پرانے نظام میں بعض اوقات ایک ہی نقصان یا ناجائز فائدے کو دو مرتبہ حساب میں شامل کر لیا جاتا تھا، جس سے رقم کا تعین پیچیدہ ہو جاتا تھا۔ نئے نظام میں اس دوہری گنتی کے مسئلے کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اب سیٹلمنٹ کی شرائط میں بنیادی سیٹلمنٹ رقم، غیر قانونی کمائی کی الگ سے وصولی اور اصلاحی اقدامات کو شامل کیا جائے گا۔

سیبی کا نیا فارمولا ایک بنیادی رقم (بیس اماو¿نٹ) پر مبنی ہوگا۔ اس رقم کا تعین متعلقہ قانون کے تحت خلاف ورزی کے لیے مقرر کم از کم جرمانے کی بنیاد پر کیا جائے گا۔اس کے بعد معاملے کی سنگینی، جانچ کس مرحلے میں ہے، ریگولیٹری کارروائی کی صورت حال، متعلقہ کمپنی یا ادارے کا تعاون، معاملے کو پیچیدہ بنانے یا حل کرنے میں اس کے رویے اور قانونی اخراجات سمیت مختلف پہلوو¿ں کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی سیٹلمنٹ رقم طے کی جائے گی۔سیبی نے واضح کیا ہے کہ بنیادی رقم طے کرتے وقت غیر قانونی کمائی یا سرمایہ کاروں کو پہنچنے والے نقصان کو اس میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ ان رقوم کا الگ سے حساب لگایا جائے گا اور ان کی مکمل وصولی کی جائے گی۔

10 لاکھ روپے تک کے معاملات کے لیے فاسٹ ٹریک سہولت

تنازعات کے جلد تصفیے کے لیے متعارف کرائے گئے فاسٹ ٹریک نظام کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا طریقہ خلاف ورزی کی نوعیت پر مبنی ہوگا، جبکہ دوسرا سیٹلمنٹ کی رقم کی حد کے مطابق کام کرے گا۔رقم کی حد پر مبنی نظام کے تحت جن معاملات میں سیٹلمنٹ کی رقم 10 لاکھ روپے سے کم ہوگی، انہیں براہ راست داخلی کمیٹی سے کل وقتی اراکین کے پینل کے پاس بھیج دیا جائے گا، تاکہ ان پر جلد فیصلہ کیا جا سکے۔دوسری جانب، خلاف ورزی کی نوعیت پر مبنی فاسٹ ٹریک نظام میں سیبی متعلقہ ادارے کو خود نوٹس بھیجے گا اور مقررہ رقم ادا کرکے معاملے کا فوری تصفیہ کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔اس انتظام کا مقصد چھوٹے اور نسبتاً سادہ معاملات کو طویل کارروائی سے بچاتے ہوئے جلد نمٹانا ہے، تاکہ ریگولیٹری ادارے کے وقت اور وسائل کا بہتر استعمال ہو سکے۔

نئے ضوابط میں مالیاتی گوشواروں میں گڑبڑی کرنے یا فنڈ کی خردبرد جیسے سنگین معاملات میں بھی سیٹلمنٹ کا متبادل فراہم کیا گیا ہے۔ تاہم، ایسے معاملات کے لیے سخت شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ان شرائط کے تحت متعلقہ کمپنیوں کو مکمل معلومات عام کرنی ہوں گی اور خردبرد کی گئی پوری رقم واپس نظام میں لانی ہوگی۔ اس طرح سیٹلمنٹ کی سہولت حاصل کرنے کے لیے صرف رقم کی ادائیگی کافی نہیں ہوگی، بلکہ ضروری انکشافات اور اصلاحی اقدامات بھی اہم ہوں گے۔

سیبی کو امید ہے کہ گزشتہ ماہ بورڈ میٹنگ میں منظور کیے گئے نئے ضوابط سے بازار سے متعلق تنازعات کو کم وقت میں حل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ جرمانے کی رقم طے کرنے کے عمل میں شفافیت بڑھے گی اور افسران کی صوابدید کا دائرہ محدود ہوگا۔نئے نظام کے ذریعے سیبی کا مقصد ایک طرف تنازعات کے تصفیے کو آسان اور تیز بنانا ہے، تو دوسری طرف ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کی جواب دہی یقینی بنانا بھی ہے۔ ادارے کو توقع ہے کہ واضح اصولوں اور غیر قانونی کمائی کی مکمل وصولی کے انتظام سے شیئر بازار میں نظم و ضبط مضبوط ہوگا اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر روک لگانے میں مدد ملے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande