
نئی دہلی، 10 اکتوبر (ہ س)۔ رواں مالی سال کی ستمبر سہ ماہی میں ملک کی چھوٹی اور درمیانی درجے کی کمپنیاں، منافع کمانے کے معاملے میں بڑی کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ سکتی ہیں۔ معروف عالمی بروکریج فرم جے پی مورگن کی تازہ رپورٹ میں یہ اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ملک میں بڑھتے ہوئے سرمایہ جاتی اخراجات، جدید مینوفیکچرنگ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ڈیٹا سینٹروں میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کا براہِ راست فائدہ چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کو مل رہا ہے۔تاہم، خام مال کی بڑھتی قیمتوں اور مال برداری کے زیادہ اخراجات کی وجہ سے کمپنیوں کے منافع کے مارجن پر کچھ دباو¿ پڑنے کا خدشہ بھی ہے۔ اس کے باوجود مضبوط گھریلو طلب کی بنیاد پر کارپوریٹ شعبے کی آمدنی میں اچھے اضافے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔جے پی مورگن کی رپورٹ کے مطابق، رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں نفٹی 50 میں شامل ملک کی بڑی کمپنیوں کے منافع میں سالانہ بنیاد پر 17 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، جے پی مورگن کی نگرانی میں شامل کمپنیوں کے مجموعی خالص منافع میں بھی سالانہ بنیاد پر 16 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ستمبر سہ ماہی کے دوران کمپنیوں کی آمدنی میں اضافے کی شرح 20 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس سے پچھلی سہ ماہی میں یہ شرح 19 فیصد تھی۔ تہواروں کا سیزن جلد شروع ہونے کے باعث کمپنیوں کی پیشگی تیاریوں اور مضبوط گھریلو طلب نے آمدنی میں اضافے کو رفتار دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جے پی مورگن کے مطابق، اس سہ ماہی میں کمپنیوں کے منافع کو بنیادی طور پر دھات، لاجسٹکس، اسپتال، ریٹیل، صارفین کی اختیاری خریداری سے متعلق مصنوعات، صنعتی اور بینکنگ شعبوں سے مدد ملنے کی توقع ہے۔تاہم، تمام شعبوں کی صورتِ حال یکساں نہیں رہے گی۔ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ، فارماسیوٹیکل اور روزمرہ استعمال کی اشیا تیار کرنے والی ایف ایم سی جی کمپنیوں کی آمدنی میں اضافہ تو ہو سکتا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی لاگت کے سبب اس اضافے کا پورا فائدہ منافع کی شکل میں سامنے نہیں آ سکے گا۔
رپورٹ میں نجی شعبے کے بڑے بینکوں کے حوالے سے مثبت امکانات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے اور مہنگائی کے معاملے پر سخت موقف اختیار کیے جانے کے بعد نجی بینکوں کے منافع سے متعلق اندازوں میں مزید بہتری کی امید ہے۔جے پی مورگن نے مستقبل کے لیے چند اہم خطرات کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، غذائی مہنگائی میں اضافہ، اندازے سے کم بارش، عالمی سطح پر جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے اثرات کی وجہ سے آئی ٹی شعبے پر پڑنے والا دباو¿ آنے والے دنوں میں بازار کی تشویش بڑھا سکتا ہے۔موجودہ معاشی حالات اور آنے والے تہواروں کے سیزن کو مدنظر رکھتے ہوئے جے پی مورگن نے بینکنگ، صحت، صنعتی اور دھات کے شعبوں پر اپنا مثبت موقف برقرار رکھا ہے اور ان شعبوں کو اوور ویٹ ریٹنگ دی ہے۔ اس کے برعکس، آئی ٹی شعبے کے بارے میں بروکریج فرم فی الحال محتاط ہے اور اس نے اسے انڈر ویٹ ریٹنگ دی ہے۔مجموعی طور پر رپورٹ کا اشارہ ہے کہ مضبوط گھریلو طلب اور تہواروں کے سیزن سے کمپنیوں کی آمدنی کو سہارا مل سکتا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی لاگت اور عالمی غیر یقینی صورتِ حال منافع کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan