مغربی بنگال: صنعت کار کو ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کرکے 7 کروڑ روپے کی ٹھگی کے معاملے میں ای ڈی نے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا
کولکاتا، یکم اکتوبر (ہ س): انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے جالندھر زونل یونٹ نے لدھیانہ کے معروف صنعت کار اور وردھمان گروپ کے چیئرمین ایس پی اوسوال کو ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کرکے 7 کروڑ روپے کی ٹھگی کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے سہیل اختر عرف راجو کو کولکا
بنگال: صنعت کار کو ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کرکے 7 کروڑ روپے کی ٹھگی کے معاملے میں ای ڈی نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا


کولکاتا، یکم اکتوبر (ہ س): انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے جالندھر زونل یونٹ نے لدھیانہ کے معروف صنعت کار اور وردھمان گروپ کے چیئرمین ایس پی اوسوال کو ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کرکے 7 کروڑ روپے کی ٹھگی کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے سہیل اختر عرف راجو کو کولکاتا سے گرفتار کیا ہے۔

یہ گرفتاری انسدادِ منی لانڈرنگ قانون کے تحت 28 ستمبر کو کولکاتا میں کی گئی چھاپہ ماری کے بعد عمل میں آئی۔ جمعرات کو ای ڈی نے اپنے بیان میں بتایا کہ کولکاتا کی مقامی عدالت سے ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد ملزم کو جالندھر لے جایا گیا، جہاں خصوصی عدالت نے اسے 6 اکتوبر تک ای ڈی کی تحویل میں بھیج دیا ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی اب حراست میں اس سے پوچھ گچھ کرکے جرم میں اس کے کردار اور رقم کے لین دین، یعنی منی ٹریل کی کڑیوں کو جوڑنے کی کوشش کرے گی۔

یہ دھوکہ دہی اگست 2023 میں ہوئی تھی۔ سائبر ٹھگوں نے خود کو مرکزی تحقیقاتی بیورو کا افسر ظاہر کرتے ہوئے صنعت کار ایس پی اوسوال کو ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کیا اور ان سے 7 کروڑ روپے وصول کیے تھے۔ لدھیانہ کے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کی بنیاد پر ای ڈی نے اپنی تحقیقات شروع کی تھیں۔ اس تفتیش میں اسی سائبر گینگ کی جانب سے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کے ذریعے کی گئی دھوکہ دہی سے متعلق مزید نو ایف آئی آر بھی شامل کی گئیں۔

تحقیقات میں سامنے آیا کہ ٹھگی کی رقم سب سے پہلے رگلو وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ اور فروزن مین ویئرہاؤسنگ اینڈ لاجسٹکس کے بینک کھاتوں میں منتقل کی گئی تھی۔ فروزن مین ویئرہاؤسنگ کے کھاتوں کو گوہاٹی کی رومی کالیتا اور کانپور کے ارپت راٹھور چلا رہے تھے، جنہیں دسمبر 2025 میں پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ای ڈی کی تحقیقات کے مطابق رگلو وینچرز کے بینک کھاتوں کا مرکزی آپریٹر سہیل اختر تھا۔ اختر ہی لوگوں کو ورغلا کر کمپنیوں اور افراد کے نام پر جعلی ’میول‘ یعنی کرائے کے بینک کھاتوں کا انتظام کرنے والا اہم ہینڈلر تھا۔ ان کھاتوں کو چلانے کے لیے ایک خصوصی اے ایم ایم فارورڈ ایپلی کیشن استعمال کی جاتی تھی۔

تحقیقات میں پایا گیا کہ کئی موبائل فونز میں پہلے سے یہ ایپلی کیشن موجود تھی اور انہیں رگلو وینچرز سے منسلک سم کارڈز کے ساتھ استعمال کیا جاتا تھا۔ اس تکنیکی نظام کے ذریعے نیپال میں موجود ان کے ساتھی بینک کھاتوں کے ایک مرتبہ استعمال ہونے والے پاس ورڈ اور دیگر مختصر پیغامات براہِ راست اپنے موبائل فونز پر حاصل کر لیتے تھے۔ اس سے ٹھگی کی رقم کو تیزی سے ایک بینک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کرنا ممکن ہوتا تھا۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ٹھگی کی رقم کو 2 سے 5 لاکھ روپے کے چھوٹے چھوٹے حصوں میں کئی جعلی بینک کھاتوں میں منتقل کیا جاتا تھا اور اس کے فوراً بعد نقد رقم نکال لی جاتی تھی۔ یہ بینک اکاؤنٹس معاشی طور پر کمزور اور ضرورت مند افراد کو قرض دلانے یا ملازمت دینے کا جھوٹا وعدہ کرکے کھلوائے گئے تھے۔

اس کے علاوہ غیر ملکی ساتھیوں کے ساتھ ان جعلی بینک کھاتوں کی تفصیلات شیئر کرنے کے لیے مکمل طور پر خفیہ کردہ پیغام رسانی کی ایپلی کیشنز کا استعمال کیا جاتا تھا۔

ملزم ارپت راٹھور کمبوڈیا اور ویتنام میں موجود ٹھگوں کو ایسے جعلی بینک کھاتے فراہم کرتا تھا اور اس کے بدلے اپنے بائننس اکاؤنٹ میں کرپٹو کرنسی کی شکل میں کمیشن حاصل کرتا تھا۔

ای ڈی اس معاملے میں پہلے ہی 1.76 کروڑ روپے کی جائیداد عارضی طور پر ضبط کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ ایجنسی نے رومی کالیتا، ارپت راٹھور، آنند چودھری، اتنو چودھری اور فروزن مین ویئرہاؤسنگ کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کر دی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande