
کٹھمنڈو، 07 جنوری (ہ س)۔ نیپال کی پارلیمنٹ کے ایوان بالاکی قومی اسمبلی کی 18 نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں نیپالی کانگریس اور نیپالی کمیونسٹ پارٹی (یونیفائیڈ مارکسسٹ-لیننسٹ) کے درمیان نشستوں کی تقسیم کا معاہدہ طے پا گیا اور نیپالی کمیونسٹ پارٹی (ماؤسٹ سینٹر) اتحاد سے باہر ہو گئی ۔
قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے نامزدگیوں کے آخری روز آج سابق وزرائے اعظم کے پی شرما اولی اور شیر بہادر دیوبا نے اپنے اتحاد کو حتمی شکل دے دی۔ پشپ کمل دہل پرچنڈ نے سیٹوں کی تعداد پر اختلاف ظاہر کیا تھا، جس کی وجہ سے سی پی این-ماؤسٹ سینٹر نے اتحاد سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے نتیجے میں نیپالی کانگریس اور سی پی این (یو ایم ایل) کے درمیان اتحاد قائم ہوا۔
معاہدے کے مطابق کانگریس کو نو سیٹیں اور سی پی این-یو ایم ایل کو آٹھ سیٹیں دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ پارلیمنٹ کے 18 رکنی ایوان بالا میں ایک نشست مدھیسی رہنما مہنت ٹھاکر کے لیے چھوڑی گئی ہے، جس کا انتخاب 25 جنوری کو ہوگا۔ ٹھاکر بھی کانگریس اور سی پی این-یو ایم ایل کی حمایت سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
کانگریس نے 9سیٹوں کے لئے کوشی سے سنیل تھاپا، مدھیس سے دھمیندر پاسوان اور رنجیت کرنا ، باگمتی سے گیتا دیوکوٹا ، گنڈکی سے جگت تملسینا ، لمبینی سے باسو دیو جنگلی اور چندر بہادر کے سی،کرنالی سے للت بہادر شاہی اور سدورپشچم سے کھم بہادر کھاتی کو میدان میں اتارا ہے۔
اسی طرح یو ایم ایل نے اپنی 8نشستوں کے لئے کوشی پردیش سے روشننی میچے، باگمتی سے ڈاکٹر پریم کمار دنگل، گنڈکی سے سمجھنا دیوکوٹا، لمبینی سے رام کماری جھانکری، کرنالی سے مینا رکھال اور سدورپشچم سے لیلا کماری بھنڈاری کوامیدوار بنایا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد