
نئی دہلی، 31 جنوری(ہ س)۔نئی دہلی میں ولی اللہی دارالافتاءوالقضاءکے زیرِ اہتمام “دستارِ تکمیلِ افتاءو مفتیانِ ہند کانفرنس” ایک باوقار اور روح پرور ماحول میں منعقد ہوئی جس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے ممتاز علماءکرام، مفتیانِ عظام، ائمہ مساجد اور دینی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ اس علمی اجتماع کا مقصد نہ صرف افتاءکی تکمیل کرنے والے نئے مفتیان کی حوصلہ افزائی تھا بلکہ امتِ مسلمہ کو درپیش عصری چیلنجز کے تناظر میں شرعی رہنمائی کے تقاضوں کو بھی اجاگر کرنا تھا۔
قبل ازیں اس کانفرنس میں افتاءکے شعبے سے فارغ ہونے والے پانچ نو منتخب مفتیانِ کرام کی دستار بندی عمل میں آئی، جن میں مفتی وکیل الرحمن قاسمی، مفتی دانش قاسمی، مفتی خالد حسینی، مفتی عادل امینی، مفتی محمد ساحل حسینی اور مفتی ڈاکٹر عبدالخالق قاسمی شامل ہیں، جبکہ شعبہ حفظ سے حافظ محمد حماد اور شعبہ تجوید سے قاری سمیر (گروگرام، ہریانہ) کی بھی دستار بندی کی گئی، جس سے محفل میں روحانی اور ایمانی فضا مزید گہری ہو گئی۔ علاوہ ازیں علمی خدمات کے اعتراف میں بیس ممتاز مفتیانِ کرام کو اعزازی انعامات سے بھی نوازا گیا۔
کانفرنس کی صدارت صدرِ محترم اختر الواسع نے کی جنہوں نے ادارے کی علمی و تربیتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ خود ولی اللہی دارالافتائ والقضائ کی سرگرمیوں کے عینی شاہد ہیں اور یہ ادارہ ملک میں اعتدال، علمی دیانت اور فقہی توازن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے حنفی، شافعی اور مالکی فقہی مذاہب کے بعض فروعی اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک کامیاب مفتی اور فقیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ حالاتِ حاضرہ اور جغرافیائی تقاضوں سے باخبر ہو تاکہ بدلتے ہوئے معاشرتی پس منظر میں درست اور مو¿ثر رہنمائی فراہم کی جا سکے۔علاوہ ازیں مولانا جاوید صدیقی قاسمی نے افتاءکی تربیت کو ایک بڑی دینی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہمارے اسلافِ کرام نے دین و ملت کی تعمیر کے لیے تن، من اور دھن کی قربانیاں پیش کیں، اسی طرح یہ نو تربیت یافتہ مفتیان بھی مسلمانوں کی شرعی رہبری کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی اور اس کی سالمیت کے لیے ہمیشہ سرگرم رہیں گے۔ قبل ازیں محکمہ صحت کے سینیئر ذمہ دار عمیل احمد نے سائنسی پیش رفت کے تناظر فقہ اسلامی کی خوبصورتی اور اس کے عملی نمونوں کا حوالہ دیتے ہوئے پروگرام میں شرکت پر مسرت کا اظہار کیا اور مفتیان کو مبارکباد پیش کی۔دہلی یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے استاد ڈاکٹر مفتی آصف اقبال نے نئے مفتیان کو مشورہ دیا کہ وہ فقہی امور میں تجدیدی وڑن کو بیدار کریں تاکہ زمانے کی بدلتی دھارا کے ساتھ جڑے رہیں اور امت کو عصری مسائل میں باوقار اور عملی رہنمائی فراہم کر سکیں۔
اسی تسلسل میں مولانا ضیائ الرحمن قاسمی نے فقہ و فتاویٰ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ افتاءدراصل شریعتِ اسلامیہ کی زندہ تعبیر ہے، جبکہ مفتی ممتاز احمد قاسمی نے فتویٰ نویسی کو صحابہ? کرام? کی روایت سے جوڑتے ہوئے دارالافتائ کی اداراتی خدمت کو نہایت قیمتی قرار دیا۔ اس موقع پر مفتی عبد الواحد قاسمی نے بطورِ ذمہ دار تمام مہمانانِ گرامی اور شرکائ کا شکریہ ادا کیا اور دارالافتائ کے آئندہ لائحہ? عمل سے حاضرین کو آگاہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ آئندہ بھی امت کی شرعی رہنمائی اور علمی تربیت کے مشن کو پوری قوت سے جاری رکھے گا۔ اس موقع پر بیس مفتیان ودانشوارن کو انکی خدمات پر شیخ الھند ایوارڈ سے نوازا گیا۔آخر میں اجتماعی دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ولی اللہی دارالافتائ والقضائ کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے مزید ترقی نصیب کرے اور نو منتخب مفتیانِ کرام کو دینِ اسلام کی صحیح اور مخلصانہ خدمت کی توفیق بخشے۔کانفرنس میں شریک ہونے والی شخصیات میں مفتی عاقل قاسمی، مفتی عادل قاسمی، مفتی اسلم قاسمی، مفتی گوہر مصعب قاسمی، مفتی شفاعت قاسمی، قاری یاسین، مولانا قاسم نوی قاسمی (صدر جمعی? علمائ صوبہ دہلی)، مفتی خبیب قاسمی، مولانا عبدالرازق قاسمی، مولانا نظام قاسمی، مفتی ممتاز احمد قاسمی،مولانا نجیبل ، قاری عبدالمنان مفتی سید عبدالشکور، مفتی غلام رسول قاسمی، ماسٹر احسان، عبدالخالق (صدر ایک مینار جامع مسجد، للیتا پارک)، ابو محمد صاحب، قاری عبدالسمیع اور سرفراز صاحب شامل تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais