
تہران،23جنوری(ہ س)۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ رد عمل زیلنسکی کے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے واشنگٹن سے ایران پر حملہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ عراقچی نے زور دے کر کہا کہ ایرانی عوام اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتے ہیں اور انہیں مدد کے لیے غیر ملکیوں کے آگے گڑگڑانے کی ضرورت نہیں۔عراقچی نے جمعہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر زیلنسکی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وہ (زیلنسکی) اپنے کرپٹ جرنیلوں کی جیبیں بھرنے اور اس نام نہاد غیر قانونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی اور یورپی ٹیکس دہندگان کا پیسہ بہا رہے ہیں جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن دوسری طرف وہ خود اسی چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر امریکی حملے کی ڈھٹائی سے دعوت دے رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا: مسٹر زیلنسکی ! دنیا ان پریشان حال مسخروں سے اکتا چکی ہے۔ آپ کی اس فوج کے برعکس جسے غیر ملکی مدد حاصل ہے اور جو کرائے کے فوجیوں سے بھری پڑی ہے، ہم ایرانی جانتے ہیں کہ اپنا دفاع کیسے کرنا ہے اور ہمیں غیر ملکیوں سے مدد مانگنے کی ضرورت نہیں۔واضح رہے کہ چند روز قبل یوکرینی صدر نے کہا تھا کہ دنیا کو چاہیے کہ وہ ایرانیوں کی مدد کرے تاکہ وہ احتجاجی لہر کے ذریعے اس حکمرانی سے نجات پا سکیں جس نے ان کے اپنے ملک اور یوکرین سمیت دیگر ممالک کے لیے شر پیدا کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز بتایا کہ ایک امریکی جنگی بیڑہ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ٹرمپ نے تہران کو مظاہرین کے قتل اور جوہری پروگرام کی بحالی پر دوبارہ خبردار کیا۔ امریکی حکام کے مطابق طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن اور گائیڈڈ میزائلوں سے لیس تباہ کن جہاز اگلے چند دنوں میں مشرقِ وسطیٰ پہنچ جائیں گے۔ علاقے میں اضافی فضائی دفاعی نظام بھیجنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ ایرانی حملے کی صورت میں امریکی اڈوں کا تحفظ کیا جا سکے۔یہ فوجی نقل و حرکت ایک طرف تو خطے میں امریکی افواج کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہے اور دوسری طرف ٹرمپ کو وہ فوجی اختیارات فراہم کرتی ہے جن کی ضرورت جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ بحری جہاز گذشتہ ہفتے ہی ایشیا بحر الکاہل کے خطے سے روانہ کر دیے گئے تھے کیونکہ ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد تہران اور واشنطن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan