
نئی دہلی، 21جنوری(ہ س)۔عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش کنوینر سوربھ بھاردواج نے کمزور سیاسی بنیاد رکھنے والے نتن نوین کو بی جے پی کا نیا قومی صدر بنائے جانے پر طنز کیا ہے۔ سوربھ بھاردواج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر شیئر کی ہے، جس میں نتن نوین کرسی پر بیٹھے ہیں اور ان کے عین پیچھے وزیر اعظم نریندر مودی کھڑے ہیں، جبکہ ان کے دائیں بائیں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور سابق قومی صدر جے پی نڈا سمیت بی جے پی کے دیگر سینئر رہنما موجود ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ یہ تصویر آج کے بھارت کی اصل تصویر ہے۔ کرسی پر کون بیٹھے گا، اس کا فیصلہ مودی جی کر رہے ہیں۔بدھ کے روز ایکس پر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی کی کرسی پر کمزور شخص کو بٹھایا جا رہا ہے۔ کرسی پر بیٹھا ہوا شخص مودی جی کی کٹھ پتلی ہے۔ بس نام کے لیے لوگوں کو کرسیوں پر سجایا جا رہا ہے۔مجموعی طور پر ساری طاقت ایک ہی شخص کے ہاتھ میں ہے۔ پھر ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ واہ مودی جی واہ۔قابلِ ذکر ہے کہ منگل کے روز بھی سوربھ بھاردواج نے نتن نوین کو بی جے پی کا قومی صدر بنائے جانے پر سوال اٹھایا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ مودی جی کی نئی بی جے پی کے اندر اب مضبوط شخصیت اور اپنی خود کی سیاسی زمین رکھنے والے لیڈروں کے لیے کیا بچا ہے؟ نتن نوین کو باس کہہ کر وہ اپنے اَہم کو تسلی دے رہے ہیں کہ انہیں سنجے جوشی یا نتن گڈکری کو باس کہنے میں کتنی تکلیف ہوتی۔ سوربھ بھاردواج نے کہا تھا کہ مودی جی نے وزیر اعظم بننے کے بعد کسی بھی اہم عہدے پر کسی مضبوط شخصیت کو بیٹھنے نہیں دیا۔ نئے قومی صدر کی سیاسی زمین تو اتنی بھی نہیں تھی کہ وہ ملک کے اہم دس ہزار رہنما¶ں میں بھی شمار ہو سکیں۔ مودی جی نے بی جے پی میں ایسے ایسے وزرائے اعلیٰ بنائے جن کی اپنی کوئی سیاسی زمین نہیں تھی، جو دہائیوں تک مودی کے سامنے ہلکے نظر آئیں گے۔ یہاں تک کہ صدرِ جمہوریہ کے عہدے پر بھی تلاش کر کے ایسے لوگوں کو بٹھایا گیا، جن کے سامنے مودی ہی واحد بڑے رہنما دکھائی دیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais