
نئی دہلی،21جنوری(ہ س)۔مرکزی تعلیمی بورڈ (ایم ٹی بی)، جماعتِ اسلامی ہند نے الٰہ آباد ہائی کورٹ (لکھنو¿ بنچ) کے 16 جنوری 2026 کو سنائے گئے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے آئینی حقوق کی توثیق کی گئی ہے اور اتر پردیش میں غیر منظور شدہ (غیر تسلیم شدہ) مدارس کے کام کاج سے متعلق قانونی صورتِ حال کو واضح کیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے جناب سید تنویر احمد، سکریٹری، مرکزی تعلیمی بورڈ ، جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اقلیتی تعلیم کے حوالے سے دور رس اور طویل مدتی اثرات کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ آئینِ ہند کے آرٹیکل 30 کی روح کو مضبوط کرتا ہے، جو مذہبی و لسانی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا نظم و نسق چلانے کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے مدارس کے منتظمین کے لیے نیک تمناو¿ں کا بھی اظہار کیا۔
معزز عدالت نے ایک ایسے سرکاری حکم کو منسوخ کر دیا جس کے تحت ایک غیر منظور شدہ مدرسے کو بند اور سیل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض عدمِ منظوری کی بنیاد پر کسی مدرسے کو بند کرنے کا اختیار متعلقہ حکام کو دینے والی کوئی قانونی شق موجود نہیں ہے۔ عدالت نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ وہ اقلیتی تعلیمی ادارے جو سرکاری امداد یا رسمی منظوری کے خواہاں نہیں ہیں، آئین کے آرٹیکل 30(1) کے تحت تحفظ کے حق دار ہیں۔ تاہم عدالت نے یہ بھی وضاحت کی کہ غیر منظور شدہ ادارے سرکاری گرانٹس کے حقدار نہیں ہوتے اور ایسے اداروں میں زیرِ تعلیم طلبہ اس وقت تک بورڈ امتحانات یا دیگر سرکاری سہولتوں کے اہل نہیں ہو سکتے، جب تک ادارہ باقاعدہ منظوری حاصل نہ کر لے۔یہ فیصلہ آئینی تحفظات اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے درمیان ایک متوازن نقط? نظر پیش کرتا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کو بند کرنے جیسا انتظامی اقدام بغیر کسی واضح قانونی اختیار کے جائز نہیں ہو سکتا، البتہ تسلیم شدہ اداروں کے لیے معیارات برقرار رکھنے میں ریاست کے جائز مفاد کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ مرکزی تعلیمی بورڈ کے مطابق یہ فیصلہ آئینی بالادستی کی ایک اہم توثیق ہے اور اقلیتی حقوق اور تعلیمی نظم و نسق سے متعلق جاری مباحث کے درمیان نہایت ضروری وضاحت فراہم کرتا ہے۔ یہ فیصلہ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عدلیہ اقلیتی برادریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قانونی فریم ورک کی پاسداری کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais