’آپ‘نے اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ایم سی ڈی میں ہو رہے کروڑوں کے بدعنوانی کے معاملات پر بی جے پی کو گھیرا
نئی دہلی، 21جنوری(ہ س)۔عام آدمی پارٹی کے کونسلروں نے بدھ کو منعقدہ اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران عوامی مفاد کے مسائل اٹھانے کے ساتھ ساتھ ایم سی ڈی میں کھلے عام جاری بدعنوانی پر بی جے پی کو سخت گھیرے میں لیا۔ اس دوران مستقل کمیٹی کے رکن پروین کما
’آپ‘نے اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ایم سی ڈی میں ہو رہے کروڑوں کے بدعنوانی کے معاملات پر بی جے پی کو گھیرا


نئی دہلی، 21جنوری(ہ س)۔عام آدمی پارٹی کے کونسلروں نے بدھ کو منعقدہ اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران عوامی مفاد کے مسائل اٹھانے کے ساتھ ساتھ ایم سی ڈی میں کھلے عام جاری بدعنوانی پر بی جے پی کو سخت گھیرے میں لیا۔ اس دوران مستقل کمیٹی کے رکن پروین کمار نے محکمہ صحت کی جانب سے بغیر ٹینڈر کے 30 کروڑ روپے کے غیر ضروری سامان کی خریداری میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی طرف اشارہ کیا اور اس میں بی جے پی لیڈروں کی ملی بھگت کا الزام لگایا۔ اسی طرح اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجے بغیر ہی نقشہ پاس کرنے والا قانون لانے کی بھی زبردست مخالفت کی گئی۔ ادھر ایم سی ڈی میں حزبِ اختلاف کے رہنما انکش نارنگ نے کہا کہ ایک طرف بی جے پی کونسلروں کو علاقوں میں کام کرانے کے لیے بجٹ نہیں دیا جا رہا اور دوسری طرف بی جے پی لیڈروں کے ذریعے افسران لوٹ مار کر رہے ہیں۔ حزبِ اختلاف کے رہنما انکش نارنگ نے کہا کہ بدھ کے روز ایم سی ڈی ہیڈکوارٹر، سوک سینٹر میں منعقدہ مستقل کمیٹی کی میٹنگ میں عام آدمی پارٹی کے اراکین نے دہلی سے جڑے عوامی مفاد کے اہم مسائل پر پوری مضبوطی، حقائق کی بنیاد اور سنجیدگی کے ساتھ اپنی بات رکھی۔ اراکین نے صاف لفظوں میں کہا کہ دارالحکومت کے عوام سے جڑے بنیادی مسائل، جیسے صحت، صفائی، شہری سہولیات اور انتظامی جوابدہی میں کسی بھی قسم کی لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انکش نارنگ نے کہا کہ میٹنگ کے دوران اراکین نے دہلی میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کی توجہ عوامی مسائل کی طرف مبذول کراتے ہوئے متعلقہ افسران سے ٹھوس جواب، وقت مقررہ میں کارروائی اور شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ عام آدمی پارٹی کے اراکین نے دہرایا کہ عوامی مفادات کا تحفظ اور جوابدہ انتظامیہ کو یقینی بنانا ہی ان کی اولین ترجیح ہے۔ادھر ایم سی ڈی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں آپ کے کونسلر پروین کمار نے کہا کہ بی جے پی کی ٹرپل انجن حکومت بدعنوانی کے نئے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ حال ہی میں محکمہ صحت میں 30 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا گیا ہے۔ اس گھوٹالے میں ایسے سامان خریدے گئے جن کی اسپتالوں میں کوئی ضرورت ہی نہیں تھی، وہ بھی بغیر ٹینڈر کے اور انتہائی ناقص معیار کا سامان لیا گیا۔ جب ان باتوں کا انکشاف ہونے لگا اور حزبِ اختلاف نے سوال اٹھانے شروع کیے تو افسران نے فوری طور پر سارا سامان راتوں رات سیدھا اسپتالوں میں بھیجنا شروع کر دیا۔ ہم نے آج اسی بڑے معاملے کو اٹھایا ہے، جو بی جے پی حکومت کی بدعنوانی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔دہلی میں بی جے پی لیڈروں کے ذریعے افسران کھلے عام ڈکیتی کر رہے ہیں۔ ایک طرف کارپوریشن کونسلروں کے پاس علاقوں میں کام کرانے کے لیے بجٹ نہیں ہے اور دوسری طرف 30 کروڑ روپے جیسے بڑے گھوٹالے کیے جا رہے ہیں۔پروین کمار نے کہا کہ حال ہی میں گوا کے ایک ریسٹورنٹ میں آگ لگنے سے کئی لوگوں کی جانیں گئیں۔ اسی طرح دو چار دن پہلے ایک انجینئر، جو گڑگا¶ں سے نوئیڈا جا رہا تھا، ڈوب کر مر گیا۔ اتر پردیش کے سب سے پوش علاقے کہلانے والے نوئیڈا میں انتظامیہ، فائر بریگیڈ، نوئیڈا پولیس اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں موجود ہونے کے باوجود ایک نوجوان کی جان نہ بچائی جا سکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں وسائل موجود نہیں تھے۔ کوئی بھی پانی میں اترنے کو تیار نہیں تھا اور کہا جا رہا تھا کہ پانی ٹھنڈا ہے یا اس میں سریا ہو سکتا ہے۔ وہ نوجوان نہیں ڈوبا، بلکہ آج ہندوستان میں بی جے پی حکومت کا نظام ڈوبا ہے۔پروین کمار نے کہا کہ اسی سلسلے میں ہم نے پچھلی بار بھی ایک سنگین مسئلہ اٹھایا تھا کہ وزیرآباد انڈسٹریل ایریا میں پراپرٹی نمبر بی-99 میں رجوڑا بینکوئٹ ہال چل رہا ہے۔ ہم نے اسٹینڈنگ کمیٹی میں یہ معاملہ اٹھایا تھا کہ وہاں ہزاروں لوگوں کی شادیاں ہو رہی ہیں، جبکہ یہ پراپرٹی ایم سی ڈی کے ذریعے سیل کی جا چکی ہے۔ سیل ہونے کے باوجود یہ پراپرٹی اس لیے چل رہی ہے کیونکہ اس میں بی جے پی کے بڑے لیڈر اور افسران شامل ہیں۔ ہم نے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کے سامنے تمام دستاویزات اور ایم سی ڈی کی جانب سے دہلی پولیس کو دیے گئے احکامات کی فوٹو کے ساتھ یہ بات رکھی۔ بی جے پی حکومت دہلی میں کسی کی جان کی قیمت نہیں سمجھ رہی اور کھلے عام بدعنوانی جاری ہے۔پروین کمار نے کہا کہ آج اسٹینڈنگ کمیٹی میں سی ٹی پی (چیف ٹا¶ن پلانر) ایک ایجنڈا لے کر آئے، جو آئٹم نمبر 77 تھا۔ ڈی ایم سی ایکٹ کی دفعہ 312 اور 313 کے تحت پارلیمنٹ نے اسٹینڈنگ کمیٹی کو یہ اختیار دیا ہے کہ دہلی میں پاس ہونے والے تمام نقشے پہلے اسٹینڈنگ کمیٹی میں پیش کیے جائیں اور اس کے بعد ہی منظور ہوں۔ لیکن آج بی جے پی کے ساتھ مل کر چیف ٹا¶ن پلانر ایک ایسا قانون لائے کہ نقشوں کو اسٹینڈنگ کمیٹی میں لانے کی ضرورت ہی نہ رہے اور وہ خود ہی انہیں پاس کر دیں۔ ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ بڑے پیمانے کی بدعنوانی کا ذریعہ ہے۔پروین کمار نے کہا کہ ہم نے اس غلط تجویز کی مخالفت کی، جس کے بعد آج بی جے پی کو اسے مسترد کرنا پڑا۔ ٹرپل انجن حکومت دہلی میں چاروں طرف سے ناکام ہو چکی ہے اور بدعنوانی کے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ اس موقع پر پروین کمار، رویندر کور، محمد عامِل مالک اور رافیہ ماہر کی باوقار موجودگی رہی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande