
بھوپال، 21 جنوری (ہ س)۔ باگیشور دھام کے پیٹھادھیشور پنڈت دھیریندر کرشن شاستری کے خلاف سنگین دفعات میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کو لے کر دلت پچھڑا سنگھرش سمیتی اور آزاد سماج پارٹی بھیم کے قومی کور کمیٹی ممبر دامودر یادو نے ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) اور بھوپال پولیس کمشنر کو شکایتی خط سپرد کیا ہے۔
تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ شاستری کے بیانات اور دعوے سماج میں توہم پرستی، فرقہ وارانہ کشیدگی اور سائنسی علاج سے دوری بڑھانے والے ہیں۔ کتھا والے اسٹیج کا غلط استعمال کر کے دھیریندر شاستری حکمراں جماعت کا ایجنڈا چلا رہے ہیں ساتھ ہی فرقہ واریت، توہم پرستی، ذات پات اور ملک کو توڑنے والی باتیں بھی کرتے ہیں جو میڈیا، سوشل میڈیا کے ذریعے کروڑوں لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔ دلت پچھڑا سنگھرش سمیتی نے اپنی درخواست میں ذکر کیا ہے کہ مقامی سطح پر کی گئی شکایتوں پر کارروائی نہیں ہونے کے سبب بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس)، 2023 کی دفعہ 173(4) کے تحت اعلیٰ پولیس افسران سے مداخلت کی مانگ کی گئی ہے۔
بھوپال واقع دلت پچھڑا سنگھرش سمیتی دفتر میں بدھ کو منعقد پریس کانفرنس میں دلت پچھڑا سماج تنظیم کے قومی صدر اور بھیم آرمی کی قومی کور کمیٹی کے ممبر دامودر یادو نے کہا کہ دھیریندر شاستری اپنے خطاب میں کرشمہ، بیماری ٹھیک کرنے کے دعوے اور مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ اس سے عام لوگ سائنسی سوچ اور طریقہ علاج سے دور ہو کر توہم پرستی کی طرف جا رہے ہیں۔ یادو نے کہا کہ انہوں نے اپنی شکایت کے ساتھ دھیریندر شاستری کے ہی چینل پر نشر کئی ویڈیو کلپس پولیس کو ثبوت کے طور پر سونپے ہیں، جن میں ان کے مطابق قابل اعتراض اور اشتعال انگیز بیانات صاف دکھائی دیتے ہیں۔
شکایت میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ایک ویڈیو میں دھیریندر شاستری کے ذریعہ لوگوں کو ہتھیار اٹھانے اور قانونی عمل سے ہٹ کر کارروائی کی بات کہی گئی، جس سے سماجی دشمنی اور تشدد کو فروغ ملنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کے خلاف ہیں۔
دلت پچھڑا سنگھرش سمیتی نے الزام لگایا کہ ایک ٹی وی پروگرام کے دوران سنگین بیماریوں، خاص طور پر کینسر کے کرشماتی علاج کا دعویٰ کیا گیا، جس سے سائنسی طبی طریقوں کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے قانوناً ممنوع ہیں اور اس سے مریضوں کی زندگی کو سنگین خطرہ ہو سکتا ہے۔
دامودر یادو نے گوالیار ہائی کورٹ احاطے میں بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کے مجسمہ کے قیام کو لے کر چل رہے تنازعہ پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک مجسمے کا سوال نہیں ہے، بلکہ یہ آئین، مساوات اور سماجی انصاف کے احترام کا مسئلہ ہے۔ اسی کو لے کر تنظیم نے بڑی ”سنکلپ یاترا“ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ یاترا ناگپور کی دیکشا بھومی سے شروع ہو کر بھوپال آئے گی اور پھر بھوپال سے گوالیار تک جائے گی۔ یادو نے بتایا کہ اس یاترا کے دوران 29 جنوری کو بھوپال کے بورڈ آفس چوراہے سے سینکڑوں کارکنان پیدل مارچ کریں گے اور وزیر اعلیٰ کو میمورنڈم سونپیں گے۔ میمورنڈم میں مطالبہ کیا جائے گا کہ گوالیار ہائی کورٹ احاطے میں ہر حال میں بابا صاحب امبیڈکر کا مجسمہ نصب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور انتظامیہ نے اس مطالبے کو نظر انداز کیا تو تحریک کو اور تیز کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن