ایرانی وزیرخارجہ کی یورپی ممالک پر طنز،کہا وہ ماضی کے موقف کا خمیازہ بھگت رہے ہیں
تہران،21جنوری(ہ س)۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عندیہ دیا ہے کہ یورپی ممالک آج اپنے ماضی کے موقف کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یورپی ممالک نے ماضی میں جوہری معاہدے کی امریکی خلاف ورزی کی حمایت کی تھی اور اب وہی رویہ ان پر اس وقت پ
ایرانی وزیرخارجہ کی یورپی ممالک پر طنز،کہا وہ ماضی کے موقف کا خمیازہ بھگت رہے ہیں


تہران،21جنوری(ہ س)۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عندیہ دیا ہے کہ یورپی ممالک آج اپنے ماضی کے موقف کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یورپی ممالک نے ماضی میں جوہری معاہدے کی امریکی خلاف ورزی کی حمایت کی تھی اور اب وہی رویہ ان پر اس وقت پلٹ کر آیا ہے جب امریکی انتظامیہ نے یورپی یونین کے ساتھ اپنے معاہدوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ان کا اشارہ 2025 کے موسم گرما میں اسکاٹ لینڈ میں کسٹمز ڈیوٹی (ٹیرف) کے حوالے سے ہونے والے ’امریکہ – یورپ‘ تجارتی معاہدے کی طرف تھا۔عراقچی نے بدھ کے روز ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے اکاونٹ پر ایک پوسٹ میں کہا جب امریکہ محض چھ ماہ قبل یورپی یونین کے ساتھ کیے گئے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اچانک ارسولا وان ڈیر لین (یورپی کمیشن کی صدر) کھڑی ہو کر یہ اصرار کرتی ہیں کہ ’سیاست ہو یا کاروبار ... معاہدہ تو معاہدہ ہوتا ہے‘ اور یہ کہ’جب دونوں فریق ہاتھ ملائیں تو اس کا کوئی مطلب ہونا چاہیے۔‘عراقچی نے مزید کہا کہ ’آج یورپ کو جس تعطل کا سامنا ہے، وہ لفظی معنوں میں ’پلٹ کر وار کرنے‘ کے تصور کی تعریف ہے۔‘انہوں نے یورپی ٹرائیکا (فرانس، جرمنی اور برطانیہ) پر الزام لگایا کہ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں، جب وہ یک طرفہ طور پر ایرانی جوہری معاہدے سے دست بردار ہوئے تھے، ان کی ’اندھی تقلید‘ کی تھی۔ انہوں نے کہا ’اگر یورپی ممالک نے اس وقت نتائج کے بارے میں سوچا ہوتا، تو وہ آج اس صورتحال میں نہ ہوتے۔ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ان تمام واقعات سے ایک واضح سبق حاصل کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یا تو تمام معاہدے واجب العمل ہیں یا پھر ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘واضح رہے کہ وان ڈیر لین نے گذشتہ روز ڈیووس سے اس بات پر زور دیا تھا کہ معاہدوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا سیاست ہو یا کاروبار ... معاہدہ معاہدہ ہوتا ہے۔ اور جب دو فریق مصافحہ کرتے ہیں، تو اس کا کوئی وزن ہونا چاہیے۔’یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب جولائی 2025 میں معاہدے پر دستخط ہونے کے محض چھ ماہ بعد، ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے مسئلے پر چھ یورپی ممالک کے موقف کی وجہ سے ان پر نئی ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی ہے۔ اسی گرین لینڈ کے سبب جسے حاصل کرنے کے لیے ٹرمپ کوشاں ہیں۔ اس اقدام کو یورپی ممالک نے معاہدے کو سبوتاڑ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande