
نئی دہلی، 19 جنوری (ہ س)۔ مرکزی زراعت، کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی کے وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے کانگریس کی طرف سے سوشل میڈیا پر نشر کیے گئے ایک خط کو ”جھوٹ اور فریب کا پلندہ“ قرار دیتے ہوئے وکست بھارت: گارنٹی فار روزگار اور روزی روٹی مشن (گرامین) یا ’وی بی -جی رام جی‘ ایکٹ کا دفاع کیا ہے۔
شیوراج سنگھ چوہان نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کا ”ملک مقدم“ یا ”ملک کی ترقی“ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کانگریس نے 1971 میں غریبی ہٹاو¿ کا نعرہ لگایا، لیکن حقیقت میں مودی حکومت کے دوران 25 کروڑافراد خط افلاس سے باہر آئے ہیں۔ مہاتما گاندھی ”سچ“ کومقدم رکھتے تھے، لیکن آج کی کانگریس اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو اور فرضی تصاویر کے ذریعےشکوک وشبہات پھیلا رہی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی پر براہ راست الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کی کانگریس کی قیادت والی متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت نے منریگا مزدوروں کو بے روزگاری بھتے سے محروم رکھا تھا۔ شیوراج نے واضح کیا، ”ہم نے منریگا سے اس تجویز کو ہٹا دیا ہے۔ اب مزدوروں کو صرف کاغذ پر نہیں، بلکہ زمینی سطح پر حق حاصل ہوا ہیں۔ 15 دنوں کے اندر کام نہیں ملنے پر بے روزگاری الاو¿نس لازمی ہوگا۔“
کانگریس نے ایک بات سچ کہی تھی کہ منریگا سے دس کروڑ جائیدادیں بنیں۔ان میں سے آٹھ کروڑ سے زیادہ جائیدایں مودی کی قیادت میں تعمیر کی گئیں۔ کووڈ-19 وبائی مرض کے دوران، مودی حکومت میں ایک لاکھ 11ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے گئے۔ منریگا کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن اس میں جو کمیاں تھیں اور بہتر استعمال کرنے کی جو کوششیں ہوئیں، اس کا نتیجہ ہے ک ہ ہم نے تقریباً 9 لاکھ کروڑ روپے خرچ کئے۔
شیوراج نے نئی اسکیم کے بارے میں پھیلائے جانے والے ’کنفیوژن‘ کو بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ منریگا (پرانی) وکست بھارت جی رام جی (نئی)، روزگار کی گارنٹی اب پہلے سے 125 دن ، اجرت کی ادائیگی اب 7-14 دنوں میں لازمی (تاخیر پر اضافی ادائیگی)، انتظامی اخراجات کو بڑھا کر9فیصد اوربجٹ کی تجویز کو بڑھا کر 95600 کروڑ روپے(صرف مرکزی حکومت کا حصہ) رکھا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا، ” جھوٹ پھیلا کر عوام کوگمراہ کرنا بند ہونا چاہیے۔ ریاستوں پر کوئی بوجھ نہیں بڑھے گا، بلکہ یہ سرمایہ کاری گاوں کی تصویر بدل دے گی ۔ جب گاو¿ں میں نئے اسکول، پل، اسپتال اور روزگار کے مواقع بنیں گے، تو انہیں بوجھ قرار دینا ترقی مخالف سوچ ہے۔ جہاں تک درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائلیوں اور خواتین کے مفادات کا تعلق ہے، تو ہماری پالیسی میں سب سے پہلی ترجیح انہیں طبقات کی ہے ۔ شبہاتپھیلانے کے بجائے حقیقت کو تسلیم کریں ، ہمارا مقصد ہر غریب اور پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانا ہے۔“
اب گرام پنچایت طے کرے گی کہ ہمارے گاو¿ں میں کون سے کام ہوں گے اور جیسا کہ میں نے کہا ، جہاں مزدور مانگ کریں گے ، وہاں کام یقینی ہے، اس کی تو گارنٹی ہے، بے روزگاری الاو¿نس کا انتظام ہے، اس میں تبدیلی کہاں ہے؟ اپوزیشن کے اس الزام پر کہ صرف چند پنچایتوں کو ہی کام ملے گا، چوہان نے واضح کیا کہ یہ قانون پورے ملک کی ہر گرام پنچایت میں یکساں طور پرنافذ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ”وکست گرام پنچایت پلان“ گرام سبھا خود بنائے گی اور کم از کم 50 فیصد کام پنچایتیں ہی کریں گی،نہ کہ ٹھیکیدار۔
راہل گاندھی کے ”کھیتی کے وقت کام چھیننے“ کے الزام کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے 85 فیصد کسان چھوٹے اور پسماندہ ہیں۔ اگر زرعی کام کے دوران مزدور اور کسان مل کر کام کرتے ہیں تو اس میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ 125 دن کا کام محفوظ وقت کے اندر یقینی بنایا جائے گا۔ وزیر نے کانگریس پارٹی کو ”جھوٹ کی دکان“ بند کرنے کی نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں صرف تقریر کرکے نکل جانا درست نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ خط میں کانگریس نے نئی اسکیم کی وجہ سے کارکنوں کے بجٹ میں تخفیف، ادائیگی میں تاخیر یا کام کی کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ کانگریس نے اس نئے قانون کے خلاف ”منریگا بچاو¿ سنگرام“ کے نام سے ملک گیر 45 روزہ تحریک شروع کی ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد