ستپڑا بھون کے سامنے ملازمین تنظیموں نے 11 نکاتی مطالبات کو لے کر احتجاج کیا، چیف سکریٹری کے نام میمورنڈم سپرد کیا
بھوپال، 15 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے سرکاری ملازمین ایک بار پھر حکومت کے خلاف تحریک کے موڈ میں ہیں۔ برسوں سے زیر التوا مطالبات، ادھورے وعدوں اور بڑھتی مہنگائی کے درمیان خود کو ٹھگا محسوس کر رہے مدھیہ پردیش کے ملازمین نے اپنے 11 نکاتی مطالبات
ستپوڑا بھون کے سامنے ملازمین تنظیموں نے 11 نکاتی مطالبات کو لے کر احتجاج کیا


ستپوڑا بھون کے سامنے ملازمین تنظیموں نے 11 نکاتی مطالبات کو لے کر احتجاج کیا


بھوپال، 15 جنوری (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے سرکاری ملازمین ایک بار پھر حکومت کے خلاف تحریک کے موڈ میں ہیں۔ برسوں سے زیر التوا مطالبات، ادھورے وعدوں اور بڑھتی مہنگائی کے درمیان خود کو ٹھگا محسوس کر رہے مدھیہ پردیش کے ملازمین نے اپنے 11 نکاتی مطالبات کو لے کر حکومت کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔ اسی تسلسل میں مدھیہ پردیش تھرڈ کلاس ایمپلائز یونین کے بینر تلے بدھ کو ریاست بھر میں ملازمین نے مظاہرہ کیا۔ دارالحکومت بھوپال میں ستپڑا بھون کے سامنے ملازمین نے زوردار نعرے بازی کی اور اس کے بعد ستپڑا بھون سے منترالیہ (سکریٹریٹ) تک ریلی نکال کر اپنا غصہ ظاہر کیا۔ ملازمین کی مانگ ہے کہ تین سال تک 70، 80 اور 90 فیصد تنخواہ دیے جانے والے چھ سال پرانے حکم کو منسوخ کرنے سمیت 11 نکاتی مطالبات کو لے کر مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد منترالیہ جا کر چیف سکریٹری کے نام میمورنڈم سونپا۔

ملازمین یونین کے ذریعے 11 نکاتی مطالبات کو لے کر مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں سی پی سی ٹی، نجات، پروبیشن پیریڈ میں تنخواہ کے نظام کو ختم کرنا، پنشن اسکیم، پروموشن کا عمل، آوٹ سورس اور کنٹریکٹ ملازمین کو پرماننٹ، ای-اٹینڈینس سمیت کل 11 مانگوں کو لے کر مظاہرہ کیا گیا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ آج حکومت کو اپنی مانگوں سے آگاہ کرا رہے ہیں، لیکن اگر مانگیں پوری نہیں کی گئیں تو آنے والے وقت میں شدید تحریک چلائی جائے گی۔ مظاہرے میں بڑی تعداد میں خواتین ملازمین بھی شامل رہیں۔ احتجاجی مظاہرے کے دوران بھوپال سمیت دیگر اضلاع کے نام کا میمورنڈم سونپ کر ملازمین کے مسائل سے حکومت کو آگاہ کرایا جائے گا۔

تھرڈ کلاس ایمپلائز یونین کے ریاستی جنرل سکریٹری اماشنکر تیواری نے بتایا کہ ملازمین کے ذریعے طویل عرصے سے زیر التوا مانگوں کو لے کر کئی بار تحریک اور مظاہرے کیے گئے ہیں۔ آگے انہوں نے بتایا کہ 70، 80 اور 90 فیصد تنخواہ دینے کا نظام ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اسے فوراً ختم کیا جانا چاہیے۔ اگر یہ مانگیں نہیں مانی گئیں تو حکومت بڑی تحریک کے لیے تیار رہے۔

ملازمین کی اہم 11 مانگیں

کام کر رہے اور ریٹائرڈ ملازمین کو مرکز کے برابر مہنگائی بھتہ (ڈی اے) دیا جائے۔

ملازمین کو کیش لیس ہیلتھ انشورنس اسکیم کا فائدہ ملے۔

نو منتخب ملازمین کو 70، 80 اور 90 فیصد تنخواہ دینے کے حکم پر روک لگائی جائے۔

پرانی پنشن اسکیم (او پی ایس) کو نافذ کیا جائے۔

محکمہ تعلیم اور شیڈول ٹرائب ڈپارٹمنٹ کے اساتذہ کو چوتھا ٹائم اسکیل پے دیا جائے۔

کلرک کیڈر کو منترالیہ کے کلرکوں کے برابر گریڈ پے دیا جائے۔

ڈیلی ویجز، مستقل کارکن، آؤٹ سورس اور کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کیا جائے۔

کمپیشنٹ اپائنٹمنٹ اور کلاس-4 پروموشن میں سی پی سی ٹی کی لازمی شرط ختم کی جائے۔

ریٹائرڈ ملازمین کو پی پی او سمیت سبھی ادائیگیاں ریٹائرمنٹ کے وقت ہی دی جائیں۔

ای-اٹینڈینس نظام پر فوری روک لگائی جائے۔

گروجی کیڈر کو سبھی سرکاری فوائد فراہم کیے جائیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande