
کولکاتا، 15 جنوری (ہ س)۔مکرسنکرانتی کے موقع پر گنگاساگر کے ساحل پر تقریباً 85لاکھ لوگ عقیدت کی ڈبکی لگانے کے لئے پہنچے۔ مغربی بنگال حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ان لوگوں نے جمعرات کی صبح گنگا ساگر میں اسنان کیا۔
اس سال گنگا ساگر میلے میں ایک انوکھا منظر دیکھنے کو ملا۔ پہلی بار،تیسری صنف (خواجہ سرا) سادھوو¿ں کی منظم موجودگی درج کی گئی۔ ان کے لیے ایک خصوصی اکھاڑا قائم کیا گیا ہے اور اسے دیکھنے کے لیے عقیدت مندوں کا ایک بڑا ہجوم جمع ہو رہا ہے۔ اب تک میلے میں ٹرانس جینڈر سادھو مختلف شکلوں میں آتے تھے لیکن اس بار دوسرے سادھوو¿ں کے تعاون سے انہیں اپنا الگ اکھاڑا ملاہے۔ جونا اکھاڑا سے کل 12 خواجہ سرا سادھو گنگا ساگر پہنچے ہیں۔
مکر سنکرانتی کے موقع پر گنگا ساگر میلہ پوری طرح عقیدت کے رنگوں میں ڈوبا ہوا نظر آیا۔ اب تک تقریباً 85 لاکھ عقیدت مند اسنان کے لیے گنگا ساگر پہنچ چکے ہیں۔ جنوبی 24 پرگنہ ضلع انتظامیہ کے مطابق، جمعرات کی دوپہر تک اسنان کا وقت باقی رہنے کی وجہ سے رات تک عقیدت مندوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچنے کی امید ہے۔ کپل منی آشرم کے سربراہ مہنت گیان داس جی مہاراج نے کہا کہ عقیدت مندوں نے جمعرات کی صبح سے ہی مقدس ڈبکی لینا شروع کر دی ہے۔
انتظامی اعداد و شمار کے مطابق، بدھ دوپہر 3 بجے تک 85لاکھ سے زیادہ یاتری گنگا ساگر میں موجود تھے۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا بھیڑ بڑھتی گئی۔ ریاست کے مختلف اضلاع کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستوں سے بھی عقیدت مندوں کی بڑی تعداد گنگا ساگر کی طرف جارہی تھی۔ انتظامیہ نے اسنان کے لیے جو جمعرات دوپہر 1:19 بجے تک کا وقت ہے، کے پیش نظر اضافی تیاریاں کی ہیں۔
ریاستی وزیر اروپ بسواس نے بتایا کہ میلے میں پینے کے پانی، رہائش اور صحت کی سہولیات کا خاطر خواہ انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ باہر سے آنے والے عقیدت مند بھی انتظامات سے مطمئن ہیں۔ میلے میں تقریباً 150 رضاکار تنظیمیں اور تقریباً 10,000 کارکنان دن رات خدمت کے کام میں مصروف ہیں۔
اس دوران میلے میں ایک عقیدت مند کی موت کی اطلاع ملی ہے۔ متوفی آسام کا رہنے والا مٹھو منڈل بتایا جاتا ہے۔ پانچ دیگر عقیدت مندوں کی طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں بہتر علاج کے لیے ہوائی جہاز سے لے جایا گیا ہے۔ انتظامیہ، وزراء، حکام اور رضاکار تنظیمیں صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی گنگا ساگر میلے میں بڑی تعداد میں سنتوں اور باباو¿ں کی آمد ہوئی ہے۔ بھسم لگائے ناگا سادھو اور ایل ای ڈی لائٹس سے مزین ”لائٹ بابا“ عقیدت مندوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ناگا بھکشوو¿ں نے ریاستی حکومت سے بھتے کے ساتھ بجلی اور پینے کے پانی کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد