
نئی دہلی، 13 جنوری (ہ س) ۔تیس ہزاری عدالت نے فیض الٰہی مسجد کے انہدام کے دوران پتھراو¿ کرنے کے الزام میں پانچ لوگوں کی ضمانت کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ سائیشہ چڈھا نے ضمانت کی درخواستوں پر 14 جنوری کو فیصلہ سنانے کا حکم دیا۔8 جنوری کو، تیس ہزاری عدالت نے پانچوں ملزمان کو 13 دن کی عدالتی تحویل میں دے دیا۔ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے والے ملزمان میں محمد اریب، کاشف، عدنان، محمد کیف اور سمیر شامل ہیں۔ دہلی پولیس نے ان ملزمان کے خلاف چاندنی محل پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند کی دفعہ 221، 132، 121، 191، 223A اور عوامی املاک کو نقصان کی روک تھام کے قانون کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ دہلی پولیس نے اب تک اس معاملے میں ایک نابالغ سمیت 12 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
دہلی پولیس نے 8 جنوری کو مزید چھ لوگوں کو گرفتار کیا۔ چھ گرفتار افراد میں عفان، عادل، شاہنواز، حمزہ، اطہر اور عبید شامل ہیں۔ یہ تمام ترکمان گیٹ علاقے کے رہائشی ہیں۔ واضح رہے کہ 7 اور 8 جنوری کی درمیانی شب رام لیلا میدان کے قریب فیض الٰہی مسجد کے نزدیک انسداد تجاوزات کارروائی کی گئی تھی۔ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے بعد تشدد پھوٹ پڑا اور لوگوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھراو¿ کیا۔ پتھراو¿ میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں علاقے کا اسپیشل سب انسپکٹر (ایس ایس او) بھی شامل ہے۔
دہلی پولیس کے مطابق، ایک سوشل میڈیا پوسٹ گردش کر رہی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ترکمان گیٹ کے سامنے مسجد کو انسداد تجاوزات مہم کے ایک حصے کے طور پر گرایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد لوگ وہاں جمع ہونے لگے۔ دہلی پولیس کے مطابق تجاوزات ہٹانے والی ٹیم پر پتھراو¿ کرنے میں تقریباً 150 سے 200 لوگ شامل تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan