
سکما، 03 ستمبر (ہ س)۔
چھتیس گڑھ کے سکما میں 20 نکسلیوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ ان میں 9 خواتین اور 11 مرد نکسلی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والوں میں پی ایل جی اے بٹالین (ماو¿سٹ تنظیم) کی ایک سرگرم کٹر خاتون نکسلائٹ بھی شامل ہے۔ ان سب پر مجموعی طور پر 33 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان میں سے دو نکسلیوں پر آٹھ لاکھ روپے، ایک نکسلی پر پانچ لاکھ روپے، چار نکسلیوں پر دو دو لاکھ روپے اور دیگر چار نکسلیوں پر ایک ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔
سکما سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آفس کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق، ان نکسلیوں نے چھتیس گڑھ حکومت کی چھتیس گڑھ نکسلائٹ سرنڈر ری ہیبلیٹیشن پالیسی اور نید نیلا نار اسکیم سے متاثر ہو کر اور پولیس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے تنگ آکر خودسپردگی کی ہے ۔ نکسلیوں نے ایس پی کرن چوان، ڈی آئی جی آفس سکما سیکنڈ کمانڈ آفیسر سریش سنگھ پائل، اے ایس پی ابھیشیک ورما، اے ایس پی نکسل آپریشن منیش راترے، ایس ڈی او پی پرمیشور تلکوار کے سامنے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آفس سکما میں ہتھیاروں کے بغیر خودسپردگی کی۔ ضلعی فورس، ڈی آر جی سکما، تفتیشی سیل، انٹیلی جنس برانچ، رینج فیلڈ ٹیم (آر ایف ٹی) کونٹا، سی آر پی ایف 111، 217، 218، 226 بٹالین اور کوبرا 203 بٹالین کے انفارمیشن برانچ کے اہلکاروں نے سرکردہ نکسلائیٹس کی حوصلہ افزائی میں خصوصی کردار ادا کیا ہے۔ حکومت کی نئی باز آبادکاری پالیسی چھتیس گڑھ نکسلائٹ خود سپردگی بحالی کی پالیسی -2025 کے تحت تمام ہتھیار ڈالنے والے نکسلیوں کو 50,000 روپے کی شرح سے مراعات اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ