
بیجنگ، 3 ستمبر (ہ س)۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپانی حملے کے خلاف فتح کی 80 ویں سالگرہ کی یاد میں بدھ کو تیانمن اسکوائر پر چین کے یوم فتح پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔ اس بہانے چین نے بڑی فوجی پریڈ کی اور دنیا کو جدید ہتھیار دکھائے جن میں لڑاکا طیارے، میزائل اور نئے الیکٹرانک وارفیئر شامل تھے۔ اس موقع پر روس کے صدر ولادی میر پوتن، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان، بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو، ملائیشیا، میانمار، منگولیا، انڈونیشیا، پاکستان، نیپال، مالدیپ سمیت 26 ممالک کے اعلیٰ رہنما موجود تھے۔
گلوبل ٹائمز کے مطابق صدر شی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ چین کو آگے بڑھنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک کسی بدمعاش سے نہیں ڈرتا اور ہمیشہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نیا سفر ہے، ایک نیا دور ہے۔
اس موقع پر چین نے اب تک کی سب سے بڑی فوجی پریڈ کا انعقاد کرتے ہوئے جدید ہتھیاروں کی نمائش کی۔ جس میں J 20 اور J 35 جیسے لڑاکا طیارے، DF 31 AG اور DF 41 بیلسٹک میزائل، DF-ZF ہائپرسونک میزائل، فضائی دفاعی نظام، ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں۔ پریڈ میں 10 ہزار سے زائد فوجی شریک ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان نے امریکی ایٹمی حملے کے بعد 15 اگست 1945 کو ہتھیار ڈال دیے تھے جس کے بعد اس نے 2 ستمبر 1945 کو چین کے خلاف شکست بھی قبول کی تھی۔اس موقع پر چین یوم فتح پریڈ مناتا رہا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی