حیدرآباد، 31 ۔ اگست (ہ س)۔ کانگریس حکومت نے عوام کو گھر بیٹھے راشن کارڈ دینے کے خواب تو دکھائے تھے، لیکن حقیقت میں لوگوں کو صرف انتظار کا راشن بانٹاجارہاہے۔حیدرآباد کے غریب عوام ایک سال سے درخواستیں دے کر تھک گئے، لیکن کارڈس کی خوشخبری ابھی تک ان کے نصیب میں نہیں آئی۔ انچارج وزیر پونم پربھاکر نے چھ مہینوں میں سب کو کارڈ دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر وہ وعدہ اب بے وقت کی طنزیہ تقریر لگ رہا ہے۔شہری شکایت کررہے ہیں کہ بعض گھروں تک آج تک کوئی عہدیدار تحقیقات کے لیے نہیں پہنچا۔اور جہاں پہنچے بھی ہیں، وہاں اہل لوگوں کو چھوڑ کر صرف کانگریس کے حمایتیوں کو ہی راشن کارڈ بانٹنے کی خبریں آرہی ہیں۔اعداد و شمار پر ذرا غور کیجئے— حیدرآباد ضلع میں 2 لاکھ 19 ہزار سے زیادہ درخواستیں داخل ہوئیں، لیکن راشن کارڈ ملے صرف ایک لاکھ کو۔ باقی ایک لاکھ سے زیادہ افراد آج بھی انکوائری کے مرحلے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے حکومت کارڈز نہیں بلکہ عوام کے صبر کا امتحان بانٹ رہی ہے۔اب چونکہ ستمبر مہینہ کا راشن کوٹہ تقسیم ہونے والا ہے، تو حکومت نے صاف کہہ دیا ہے کہ 20 ستمبر سے پہلے جنہیں کارڈ مل گئے وہی راشن لے سکتے ہیں ۔ باقی غریب عوام…
صرف پڑوسیوں کو راشن کے تھیلے لے جاتے دیکھ کر حسرت بھرے دل سے تماشہ دیکھتے رہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ سب کچھ ہونے کے باوجود، تمام شرائط پوری ہونے کے باوجود، انہیں صرف عہدیداران کی سست روی اور سیاسی جانبداری کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔بعض جگہ لوگ بیچ والے افراد کو 3 سے 4 ہزارروپئے دیکر نیا راشن کارڈ اور پرانے راشن کارڈ میں نام درج کرارہے ہیں ،جو لوگ حکومت کے بھروسے بیٹھے ہیں اُنہیں صرف آن لائن چیک کرنے پر پینڈنگ اسٹیٹس بتارہا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا راشن کارڈ کا حق بھی اب سیاسی سفارش سے ملے گا؟ کیا عوام کے صبر کو اور آزمایا جائے گا؟اور آخر کب تک یہ حکومت اپنی تاخیر کو انتظامی مسئلہ کہہ کر ٹالتی رہے گی؟
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق