غزہ،31اگست(ہ س)۔ایک فلسطینی ذریعے نے اتوار کی صبح العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اسرائیل نے ایک فلیٹ کو نشانہ بنایا جس میں ابو عبیدہ موجود تھے، اور اس فضائی حملے میں اپارٹمنٹ میں موجود تمام افراد ہلاک ہو گئے۔فلسطینی ذریعے نے مزید کہا کہ ابو عبیدہ کے اہلِ خانہ اور القسام قیادت نے لاش کی شناخت کے بعد ان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ہفتے کو اعلان کیا تھا کہ غزہ میں حماس کی ایک نمایاں شخصیت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے’ایکس‘ پلیٹ فارم پر لکھا کہ غزہ شہر کے شمالی حصے میں حماس کے ایک مرکزی رکن پر فضائی حملہ کیا گیا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس کارروائی کا ہدف القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ تھے اور ان کے مطابق 95 فیصد امکان ہے کہ یہ کارروائی کامیاب رہی۔اسرائیلی چینل 12 نے بتایا کہ ابو عبیدہ کی موجودگی کی ابتدائی معلومات جمعہ کی شام ملی تھیں اور ہفتہ کی شام ساڑھے پانچ بجے یہ کارروائی انجام دی گئی۔ایک اسرائیلی اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ اگر ابو عبیدہ اس عمارت میں موجود تھے تو اس بار ان کے بچنے کا کوئی امکان نہیں۔اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے نے کہا کہ اگر یہ کارروائی کامیاب ہوئی تو اسے انتہائی اہمیت حاصل ہوگی، تاہم سرکاری سطح پر ابھی نتیجہ آنے کا انتظار ہے۔ذرائع کے مطابق اسرائیلی حملے کا ہدف غزہ شہر کے مغربی علاقے الرمال کی ایک رہائشی عمارت تھی۔ اس کارروائی میں مجموعی طور پر 20 فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔اسی دوران اسرائیلی فضائیہ نے الرمال اور الشاطءکیمپ میں بے گھر افراد کے خیموں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 5 فلسطینی جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔ادھر اسرائیلی فضائی اور زمینی گولہ باری شہر کے مشرقی حصے کے ساتھ ساتھ وسطی اور جنوبی غزہ میں بھی جاری رہی۔یاد رہے کہ غزہ کی جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئی، جس میں اسرائیل کے مطابق 1219 افراد مارے گئے اور 251 کو قیدی بنا کر غزہ منتقل کیا گیا۔اب بھی 47 قیدی غزہ میں موجود ہیں، جن میں تقریباً 20 زندہ ہیں، جیسا کہ اسرائیلی فوج نے کہا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک 63 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan