بی سی بل عوام کو دھوکہ دینے کے لئے لایاگیا: کے ٹی راما راو
حیدرآباد، 31 ۔ اگست (ہ س)۔ تلنگانہ کے سابق وزیرکے ٹی راما راو نے واضح کیا ہے کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں لائے گئے پنچایت راج قانون میں بی سی ریزرویشن پر سیلنگ عائد کرنے سے متعلق وزیر سیتا اکا کا بیان بالکل غلط اور سو فیصد جھوٹ پر مبنی ہے۔پنچایت راج
بی سی بل عوام کو دھوکہ دینے لایاگیا: کے ٹی راما راو


حیدرآباد، 31 ۔ اگست (ہ س)۔ تلنگانہ کے سابق وزیرکے ٹی راما راو نے واضح کیا ہے کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں لائے گئے پنچایت راج قانون میں بی سی ریزرویشن پر سیلنگ عائد کرنے سے متعلق وزیر سیتا اکا کا بیان بالکل غلط اور سو فیصد جھوٹ پر مبنی ہے۔پنچایت راج ترمیمی بل پر بحث کے دوران اسمبلی میں کے ٹی آر نے اظہارخیال کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

کے ٹی آر نے کہا کہ بی سی ریزرویشن کے معاملے میں اگر قانون درست طور پر بنایا جائے تو عدلیہ رکاوٹ نہیں بنتی۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ کام سائنٹیفک انداز میں ہوناچاہیے، تب ہی یہ مقصد پورا ہوگا۔ 42 فیصد ریزرویشن دینے کے معاملہ کی ہم حمایت کر رہے ہیں۔ بی آر ایس حکومت نے کہیں بھی سیلنگ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ یہ سو فیصد جھوٹ ہے۔کے ٹی آر نے وضاحت کی کہ آئین کے آرٹیکل 243 ڈی(6) اور ٹی(6) کے تحت بی سی ریزرویشن دینے کا اختیار ریاستوں کو دیا گیاہے۔ اسی بنیاد پر نیا پنچایت راج قانون لایا گیا اور 396 جی او کے ذریعہ 34 فیصد ریزرویشن دیے گئے۔

اس وقت جب تلنگانہ حکومت نے جی او 396 جاری کیا، تو محبوب نگر کے گوپال ریڈی نامی شخص ہائی کورٹ پہنچے اور رکاوٹ ڈال دی۔ وہ ریونت ریڈی کے قریبی رشتہ دار اور کانگریس لیڈر بھی ہیں۔کانگریس پارٹی کی کوتاہی کی وجہ سے ہی یہ سب کچھ ہوا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ سیاسی بیانات نہیں دیتے تو ہم بھی نہیں دیتے، لیکن عوام کو حقائق بتانا ضروری ہے۔کے ٹی آر نے مزید کہا کہ 15 دنوں تک اسمبلی چلانے کے بجائے حکومت بھاگ رہی ہے۔ ہم ہر مسئلہ پر بحث کرنے کو تیار ہیں مگر ریونت حکومت آگے نہیں آ رہی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ عدالتی جانچ میں قائم نہ رہنے والے جی اوز کے ذریعہ بی سی طبقہ کی زندگی کیسے بدلے گی؟ پارلیمنٹ میں بننے والا قانون اگر یہاں اسمبلی میں بنایا جائے تو اس کا کیا فائدہ ہوگا؟ پانچ طرح کی باتیں کرنے کے بجائے حکومت کو صاف طور پر بتانا چاہیے کہ کس طریقہ سے یہ ممکن ہوگا۔کے ٹی آر نے کہا کہ یہاں تو بل پاس ہو جائے گا، مگر جب گورنر نے آرڈیننس پر دستخط نہیں کیے، تو پھر اس بل پر کیسے دستخط کریں گے؟ یہ سب عوام کو دھوکہ دینے کے لیے ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande