روس نے یوکرین پر دباؤ بڑھایا، پوری فرنٹ لائن پر حملوں میں شدت
ماسکو/کیو، 30 اگست (ہ س)۔ روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج یوکرین میں تقریباً پوری فرنٹ لائن پر مسلسل کارروائیاں کر رہی ہے اور اس کا اسٹریٹجک فائدہ مل رہا ہے۔ روس کے چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف نے ہفتے کے روز یہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ روسی افوا
روس نے یوکرین پر دباؤ بڑھایا، پوری فرنٹ لائن پر حملوں میں شدت


ماسکو/کیو، 30 اگست (ہ س)۔ روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج یوکرین میں تقریباً پوری فرنٹ لائن پر مسلسل کارروائیاں کر رہی ہے اور اس کا اسٹریٹجک فائدہ مل رہا ہے۔ روس کے چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف نے ہفتے کے روز یہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ روسی افواج نے حالیہ مہینوں میں یوکرین کے کئی علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کی ہے۔

گیراسیموف نے وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ اپنے مکتوب میں کہا، مشترکہ فوجی دستے تقریباً پوری فرنٹ لائن پر مسلسل جارحانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ فی الحال، تزویراتی اقدام مکمل طور پر روسی افواج کے پاس ہے۔ تاہم انہوں نے ماسکو کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔

گیراسیموف نے کہا کہ روس نے یوکرین کے شہروں اور قصبوں پر فضائی حملوں کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ جمعرات کو دارالحکومت کیف پر ہونے والے ایک فضائی حملے میں کم از کم 23 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہو گئے تھے۔ یہ حملہ اس ملاقات کے چند روز بعد ہوا ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کی الاسکا میں ملاقات ہوئی تھی۔ امریکا کو امید تھی کہ یہ ملاقات جنگ کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگی۔

گیراسیموف کے مطابق، روس اب مشرقی لوہانسک کے 99.7فیصد علاقے، ڈونیٹسک کے 79فیصد، زرفوزیہ کے 74فیصد اور کھیرسان کے 76 فیصد حصے پر کنٹرول رکھتا ہے۔ مارچ سے اب تک روسی فوج نے 3500 مربع کلومیٹر سے زائد رقبہ اور 149 گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے قریب ہیں۔

روس کا کہنا ہے کہ اس نے یوکرین کے دفاعی پیداواری اداروں پر 76 ٹارگٹ حملے کیے ہیں۔ ان میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور ڈرون بنانے والے یونٹ شامل ہیں۔ تاہم یوکرین کا الزام ہے کہ روس نے جان بوجھ کر گنجان آباد علاقوں کو نشانہ بنایا جس سے ہزاروں شہری مارے گئے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande