کڑکڑڈوما کورٹ میں احتجاج کے دوران وکیل روی کانت شرما کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔
نئی دہلی، 28 اگست (ہ س)۔ جمعرات کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی طرف سے بات چیت کی یقین دہانی کے بعد دہلی کے وکلاء نے عدالتی بائیکاٹ کی تحریک واپس لے لی ہے جو دو دنوں سے چل رہی تھی۔ وکلاء دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے دہلی پولیس اسٹیشنوں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے گواہی دینے کی اجازت دینے کے نوٹیفکیشن کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس کے تحت 29 اگست کو لیفٹیننٹ گورنر کے سامنے احتجاج کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
دہلی کی نچلی عدالتوں کی تمام بار ایسوسی ایشنز کی تنظیم آل ڈسٹرکٹ کورٹ بار ایسوسی ایشنز کی کوآرڈینیشن کمیٹی نے عدالتی بائیکاٹ واپس لینے کا اعلان کیا ہے جب دہلی پولیس کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اس معاملے پر دہلی کے وکلاء سے بات چیت کریں گے۔ جب تک بات چیت کا نتیجہ نہیں نکلتا، لیفٹیننٹ گورنر کے نوٹیفکیشن پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوگا۔
دہلی میں وکلاء کی ہڑتال کے دوران جمعرات کو کڑکڑڈوما کورٹ میں احتجاج کے دوران رویکانت شرما نامی وکیل کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔ دوسری طرف وکلاء کے عدالتی بائیکاٹ کا اثر تیس ہزاری کورٹ، کڑکڑڈوما کورٹ، راؤز ایونیو کورٹ، ساکیت کورٹ، روہنی کورٹ، پٹیالہ ہاؤس کورٹ اور دوارکا کورٹ میں دیکھا گیا۔ عدالت کے احاطے میں نہ صرف عدالتی کام میں خلل پڑا بلکہ آس پاس کی تمام دکانیں بھی بند رہیں۔
دہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی نچلی عدالتوں کے وکلاء کی حمایت کا اظہار کیا تھا اور وکلاء سے آج کام کے دوران سیاہ پٹیاں باندھنے کی اپیل کی تھی۔ سپریم کورٹ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ایسوسی ایشن نے بھی نچلی عدالتوں کے وکلاء کی حمایت کی تھی اور لیفٹیننٹ گورنر کے نوٹیفکیشن کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ملک بھر میں وکلاء کی رجسٹریشن اور ان کے ضابطے کے لیے تشکیل دی گئی بار کونسل آف انڈیا نے بھی لیفٹیننٹ گورنر کے نوٹیفکیشن پر اعتراض کیا تھا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی دہلی کے وکلاء کے مطالبے کی حمایت کی تھی۔
اس ہڑتال کی کال دہلی کی نچلی عدالتوں کی تمام بار ایسوسی ایشنز کی تنظیم آل ڈسٹرکٹ کورٹ بار ایسوسی ایشنز کی کوآرڈینیشن کمیٹی نے دی تھی۔ رابطہ کمیٹی نے کہا تھا کہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے 13 اگست کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں تھانوں سے پولیس اہلکاروں کے بیانات ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ریکارڈ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے لیے کچھ جگہوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کے اس فیصلے کے خلاف رابطہ کمیٹی نے 20 اگست کو دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر، مرکزی وزیر داخلہ، مرکزی وزیر قانون و انصاف اور دہلی کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر اپنی مخالفت کا اظہار کیا تھا۔ رابطہ کمیٹی کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر کا نوٹیفکیشن 15 جولائی 2024 کے مرکزی ہوم سیکرٹری کے سرکلر کے برعکس تھا، مرکزی ہوم سیکرٹری کے سرکلر میں تھانوں میں کسی بھی قسم کی گواہی سے انکار کیا گیا تھا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی