جموں،15 اگست (ہ س)۔
جموں و کشمیر کے پہاڑی ضلع کشتواڑ کے بادل پھٹنے سے شدید متاثرہ گاؤں چشوتی میں جاری ریسکیو کارروائیوں کو مزید تیز کرتے ہوئے نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ایک ٹیم جمعہ کو موقع پر پہنچ گئی۔ حکام کے مطابق اس سانحے میں اب تک 46 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 167 افراد کو زندہ نکالا گیا ہے، جن میں سے 38 کی حالت نازک ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کشتواڑ پنکج شرما،ذاتی طور پر آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں،اُنہوں نے بتایا کہ این ڈی آر ایف کی ٹیم خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر کے بجائے ادھم پور سے سڑک کے راستے پہنچ کر گزشتہ رات گلاب گڑھ میں اتری۔ انہوں نے کہا کہ دو مزید ٹیمیں بھی راستے میں ہیں جو جلد آپریشن میں شامل ہو جائیں گی کیونکہ تباہی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔
فوج نے بھی ریسکیو آپریشن کو تیز کرنے کے لیے ایک اور یونٹ تعینات کر دیا ہے، جبکہ راشٹریہ رائفلز کے جوان پہلے ہی کارروائی میں شریک ہیں۔ فوج کے پانچ سے زائد یونٹ ہر ایک میں 60 اہلکار، یعنی مجموعی طور پر 300 فوجی، وائٹ نائٹ کور کے طبی عملے سمیت، پولیس، ایس ڈی آر ایف اور دیگر سول اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ دن رات متاثرین کی جانیں بچانے اور امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ رضاکار تنظیم ابابیل بھی نو ایمبولینسوں کے ساتھ آپریشن میں شریک ہے۔ تنظیم کے رکن عادل کے مطابق، ان کی ٹیم لاشوں کو نکالنے اور زخمیوں کو اٹھولی اور کشتواڑ کے اسپتالوں تک پہنچانے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ اسی طرح ہلال والنٹیرز گروپ نے بھی ریسکیو سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے زخمیوں کو بروقت اسپتال منتقل کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر