کشتواڑ کے چشوتی میں بادل پھٹنے کے بعد حکومت کی طرف سے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری
جموں،15 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے دورافتادہ پہاڑی گاؤں چشوتی میں جمعرات کو بادل پھٹنے کے المناک واقعے کے بعد محکمہ صحت و طبی تعلیم نے ہنگامی بنیادوں پر طبی ڈھانچے کو مضبوط بناتے ہوئے مریضوں کو بہترین علاج کی فراہمی کے لیے بھرپور اقد
Health


جموں،15 اگست (ہ س)۔

جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے دورافتادہ پہاڑی گاؤں چشوتی میں جمعرات کو بادل پھٹنے کے المناک واقعے کے بعد محکمہ صحت و طبی تعلیم نے ہنگامی بنیادوں پر طبی ڈھانچے کو مضبوط بناتے ہوئے مریضوں کو بہترین علاج کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس سانحے میں 46 افراد، جن میں دو سی آئی ایس ایف اہلکار بھی شامل ہیں، جان کی بازی ہار گئے، جب کہ 167 زخمیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا اور 69 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ مزید کئی لوگ ملبے کے نیچے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ تباہ کن آفت جمعرات دوپہر تقریباً 12 بج کر 25 منٹ پر پیش آئی، جس نے مچیل ماتا یاترا کے راستے پر قائم چشوتی گاؤں میں عارضی بازار، لنگر گاہ اور ایک سیکورٹی چوکی کو بہا دیا۔ طغیانی میں کم از کم 16 مکانات و سرکاری عمارتیں، تین مندر، چار پن چکیاں، 30 میٹر طویل پل اور ایک درجن سے زائد گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔

محکمہ صحت کے مطابق سانحے کے مقام کے قریب واقع سب ڈسٹرکٹ اسپتال میں 13 اضافی ڈاکٹروں اور 31 پیرامیڈیکل عملے کو تعینات کیا گیا ہے، جب کہ محکمہ کے سینیئر افسران پاڈر میں موجود رہ کر ریسکیو اور طبی کارروائیوں کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں۔ ضلع اسپتال کشتواڑ میں گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ سے جنرل سرجنز، آرتھوپیڈک سرجنز اور اینستھیٹسٹ فراہم کیے گئے ہیں۔ اعلیٰ طبی اداروں کو بھی ہنگامی تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم تیار ہے، جب کہ جی ایم سی جموں میں 50 ڈیزاسٹر بیڈ، 20 وینٹی لیٹر بیڈ اور پانچ آپریٹنگ تھیٹر فعال کر دیے گئے ہیں۔ ماہرین میں آرتھوپیڈیشنز، نیورو سرجنز، کریٹیکل کیئر اینستھیٹسٹ اور میکسلو فیشل کنسلٹنٹس شامل ہیں، جب کہ بلڈ بینک میں 200 سے زائد خون کے یونٹس دستیاب ہیں۔ پی جی آئی ایم ای آر چندی گڑھ سے بھی کریٹیکل کیئر اسپیشلسٹ اور نیورو سرجنز پر مشتمل خصوصی ٹیم جی ایم سی جموں پہنچ رہی ہے تاکہ نازک مریضوں کے علاج کی صلاحیت مزید بڑھائی جا سکے۔ حادثے کے فوراً بعد محکمہ صحت، این ایچ پی سی، فوج، سی آر پی ایف اور 108 ایمرجنسی سروسز کی مجموعی طور پر 65 ایمبولینسیں ریسکیو اور مریضوں کی منتقلی میں مصروف کر دی گئیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande