شملہ، 14 اگست (ہ س)۔ ہماچل پردیش میں موسلادھار بارش نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ بدھ کی رات سے شروع ہونے والی بارش جمعرات کو دن بھر جاری رہی، جس کی وجہ سے کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب اور درخت گرنے کے واقعات پیش آئے۔ بادل پھٹنے سے کلو، لاہول اسپیتی، کنور اور شملہ کے رام پور علاقے میں زبردست تباہی ہوئی۔ کئی پل بہہ گئے، مکانات اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور کئی گاووں کو خالی کرنا پڑا۔
ریاست میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف واقعات میں چھ افراد کی موت ہوئی ہے۔ ان میں چمبا ضلع میں منی مہیش یاترا کے دوران ایک عقیدت مند، شملہ ضلع کے رام پور سب ڈویژن میں پتھر لگنے کی وجہ سے ایک 20 سالہ لڑکی اور سولن، کانگڑا، کلو اور لاہول اسپیتی میں ایک- ایک موت ہوئی۔ اسی دوران 103 مکانات کو نقصان پہنچا، 47 دکانیں اور 70 مویشیوں کے شیڈ منہدم ہوگئے۔
شملہ اور کلو میں سب سے زیادہ تباہی
شملہ ضلع کے رام پور سب ڈویژن میں بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب میں چار پل، دو مکانات، پانچ دکانیں اور سات شیڈ بہہ گئے۔گانوی کے علاقے میں ایچ آر ٹی سی کی بس اور ایمبولینس پھنس گئی اور تین پنچایتوں سے رابطہ منقطع ہوگئیں۔ کوٹکھائی کے علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 5-7 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں اور این ایچ-05 کئی مقامات پر بلاک ہو گیا۔ چوپال کے دیہا کرگولی نالے میں سیلاب کی وجہ سے سیب سے لدی کئی گاڑیاں پھنس گئیں۔
کلّو ضلع کی وادی بنجر کے بٹھاہڑ علاقے میں بادل پھٹنے سے کئی مکانات اور جھونپڑیوں کو نقصان پہنچا، پل ٹوٹ گئے اور پانچ گاڑیاں بہہ گئیں۔ نرمنڈ سب ڈویژن میں کورپن کھڈ میں پانی بھر جانے کی وجہ سے بازار کو خالی کرنا پڑا۔
قبائلی علاقوں میں بھی نقصان
قبائلی ضلع کنور کی وادی رشی ڈوگری اور لاہول اسپیتی کی وادی میاڑ میں بادل پھٹنے سے عوامی املاک کو نقصان پہنچا۔ کرپٹ گاوں کے دو درجن خاندانوں کو محفوظ مقامات پر بھیج دیا گیا۔
دو قومی شاہراہیں اور 470 سڑکیں بند، 721 ٹرانسفارمرز ٹھپ
موسلا دھار بارش نے ریاست میں بنیادی ڈھانچہ کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق ریاست بھر میں دو قومی شاہراہیں اور 470 سڑکیں جمعرات کی شام تک بند رہیں۔ منڈی میں سب سے زیادہ 162 سڑکیں بند ہیں، اس کے بعد شملہ میں 99، کلو میں 73، سرمور میں 66 اور کانگڑا میں 26 سڑکیں بند ہیں۔ ریاست بھر میں 721 ٹرانسفارمرٹھپ ہیں، جن میں سرمور میں 187، اونا میں 162، لاہول اسپیتی میں 150، سولن میں 114 اور کلو میں 30 ٹرانسفارمر شامل ہیں۔ پینے کے پانی کی 192 اسکیمیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
سرمور کے پچھاد میں سب سے زیادہ 150 ملی میٹر بارش
محکمہ موسمیات کے مطابق سرمور ضلع کے پچھاد میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ 150 ملی میٹر بارش ہوئی۔ راج گڑھ اور کنڈا گھاٹ میں 100 ملی میٹر، اونا اور جتون بیراج میں 90-90 ملی میٹر، شملہ اور کوٹکھائی میں 80 ملی میٹر اور شملہ اور کفری میں 70 ملی میٹر بارش ہوئی۔
محکمہ نے 20 اگست تک ریاست کے کئی حصوں میں بھاری بارش کے لیے ایلو الرٹ جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی سات اضلاع اونا، کانگڑا، ہمیر پور، کلو، چمبا، شملہ اور منڈی میں آج رات بھاری بارش کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ 15 سے 20 اگست تک بیشتر اضلاع میں ایلو الرٹ رہے گا۔
اب تک 247 ہلاک، 36 لاپتہ
ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی روزانہ کی رپورٹ کے مطابق اس مانسون سیزن میں اب تک 247 افراد ہلاک، 36 لاپتہ اور 329 زخمی ہیں۔ 2,308 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے 545 مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں۔ 359 دکانیں اور 2,113 مویشیوں کے شیڈ تباہ ہو چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 2,104 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ محکمہ تعمیرات عامہ کو 1,151 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے اور محکمہ واٹر پاور کو 697 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اب تک مانسون کے دوران 60 لینڈ سلائیڈنگ، 71 سیلاب اور 34 بادل پھٹنے کے واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد