بی جے پی حکومت اے سی بی سے تحقیقات کرائے کہ پچھلے سال ان کے چہیتے افسران نے ڈی سلٹنگ کا آڈٹ کیوں نہیں ہونے دیا: سوربھ بھاردواج
نئی دہلی، 31 جولائی(ہ س )۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی صدر سوربھ بھاردواج نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کل ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بی جے پی کی دہلی حکومت سے یہ سوال کیا تھا کہ دہلی ہائی کورٹ کا 8 اپریل
بی جے پی حکومت اے سی بی سے تحقیقات کرائے کہ پچھلے سال ان کے چہیتے افسران نے ڈی سلٹنگ کا آڈٹ کیوں نہیں ہونے دیا: سوربھ بھاردواج


نئی دہلی، 31 جولائی(ہ س )۔

عام آدمی پارٹی کے دہلی صدر سوربھ بھاردواج نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کل ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بی جے پی کی دہلی حکومت سے یہ سوال کیا تھا کہ دہلی ہائی کورٹ کا 8 اپریل 2024 کا حکم ہے کہ حکومت کی طرف سے کروائے گئے ڈی سلٹنگ کے کاموں کا ایک آزاد ایجنسی کے ذریعے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے، اور عدالت کا یہ حکم دہلی حکومت کے لیے لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا دہلی حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق ڈی سلٹنگ کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا؟ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ میں نے یہ سوال اس لیے اٹھایا کیونکہ ہم کئی سالوں سے لگاتار یہ بات کہہ رہے ہیں، اور خود معزز عدالت نے بھی مانا ہے کہ ڈی سلٹنگ کے کاموں میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوتا ہے۔ صرف کاغذوں پر کام دکھایا جاتا ہے، ٹھیکیداروں کو کام کے بدلے ادائیگی کر دی جاتی ہے، لیکن زمین پر کوئی کام نہیں ہوتا۔ دو دن پہلے دہلی میں ہلکی بارش کے بعد جو شدید پانی جمع ہوا، وہ اس کا زندہ ثبوت ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اس سال بھی دہلی حکومت نے ڈی سلٹنگ کے حوالے سے بڑے دعوے کیے، کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، مگر حالات ویسے کے ویسے ہی رہے۔ انہوں نے کہا کہ کل میں نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا جی سے سوال کیا تھا کہ آیا حکومت نے ڈی سلٹنگ کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا ہے یا نہیں؟ اگر کرایا ہے تو اس کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔ میرے اس سوال پر دہلی حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ بی جے پی دہلی کے صدر وریندر سچدیوا جی نے پلٹ کر ہم سے سوال کیا کہ پچھلے سال دہلی میں آپ کی حکومت تھی، آپ نے ڈی سلٹنگ کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کیوں نہیں کرایا؟اس پر سوربھ بھاردواج نے جواب دیا کہ میں نے پچھلے سال کئی بار چیف سیکریٹری کو خط لکھ کر ڈی سلٹنگ کی اسٹیٹس رپورٹ مانگی تھی اور ساتھ ہی تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کے لیے بھی درخواستیں دی تھیں۔ سوربھ بھاردواج نے اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے میڈیا کے سامنے ایک ویڈیو جاری کیا جس میں وہ اس وقت کے چیف سیکریٹری نریش کمار جی اور دیگر افسران کے ساتھ میٹنگ میں ڈی سلٹنگ کی اسٹیٹس رپورٹ اور آڈٹ کے حوالے سے سوالات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معزز ہائی کورٹ کے حکم اور میرے بار بار لکھنے کے باوجود اس وقت کے چیف سیکریٹری نریش کمار جی نے ڈی سلٹنگ کا تھرڈ پارٹی آڈٹ نہیں کرایا۔ پریس کانفرنس کے دوران سوربھ بھاردواج نے بڑا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ صاف ظاہر ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ ڈی سلٹنگ صرف کاغذوں میں ہو رہی ہے، اگر جانچ ہوئی تو کئی بڑے افسران اس میں پھنس جائیں گے۔ اسی لیے کرپشن کو چھپانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ نہیں کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے خط میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا جی سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ اس بات کی بھی جانچ کرائی جائے کہ میرے بار بار خط لکھنے کے باوجود پچھلے سال تھرڈ پارٹی آڈٹ کیوں نہیں ہوا؟ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس سال بھی تھرڈ پارٹی آڈٹ نہیں ہو رہا ہے۔ اگر واقعی اس سال بھی آڈٹ نہیں ہو رہا تو اس کی بھی جانچ ہونی چاہیے کہ کیوں نہیں ہو رہا؟ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کے چیف سیکریٹری نریش کمار جی بی جے پی کے منظور نظر افسران میں سے ایک رہے ہیں، اور مجھے اس بات کی کم امید ہے کہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا ان کے خلاف اے سی بی جانچ کا حکم دیں گی۔انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کی دہلی حکومت اس معاملے میں اے سی بی انکوائری کا حکم نہیں دیتی تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ بی جے پی حکومت ڈی سلٹنگ میں ہونے والے کرپشن کو چھپانے اور پردہ ڈالنے میں پوری طرح شامل ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande