علی گڑھ, 2 اپریل (ہ س)۔ جمعیۃ علماء ضلع سیکریٹری و میڈیا انچارج سید قاری عبداللہ نے کہا ہے کہ وقف ترمیمی بل کے تعلق سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وقف بورڈ میں اصلاحات کی جاتی اور انکو مزید طاقتور بنایا جاتا، تاکہ جو لوگ وقف املاک پر ناجائز قبضہ روکا جا سکے، ان سے وہ زمینیں خالی کرائی جا سکیں اور واقف کی اصل منشا کے مطابق ان کا استعمال ہو سکے۔ لیکن اس کے برعکس، حکومت ایسے قوانین لا رہی ہے جو وقف کی روح کے منافی ہیں اور مسلمانوں کی جائیدادوں کو غیر قانونی قبضوں کی نذر کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انھوں نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو مسلمانوں کے ووٹوں سے اقتدار تک پہنچے ہیں، مگر آج وہ مسلمانوں کے مفادات کے خلاف قوانین کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا اصلی چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے اور اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کرتے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ