سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے 26 ہزار اساتذہ اور تعلیمی کارکن اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے
کولکاتہ، 03 اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال میں اساتذہ کی بھرتی گھوٹالہ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے نے ہزاروں خاندانوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ عدالتی حکم کے بعد 26 ہزار سے زائد اساتذہ اور تعلیمی کارکن نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس فیصلے کے بعد متاثرہ
سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے 26 ہزار اساتذہ اور تعلیمی کارکن اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے


کولکاتہ، 03 اپریل (ہ س)۔

مغربی بنگال میں اساتذہ کی بھرتی گھوٹالہ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے نے ہزاروں خاندانوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ عدالتی حکم کے بعد 26 ہزار سے زائد اساتذہ اور تعلیمی کارکن نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس فیصلے کے بعد متاثرہ افراد گہرے صدمے میں ہیں۔ کچھ نے مایوسی میں خود کو مارنے کی بات کی ہے تو کچھ انصاف کی امید میں قانونی جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔

سپریم کورٹ نے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے پورے پینل کو غیر قانونی قرار دیا، جس کی وجہ سے ہزاروں اساتذہ اور تعلیمی کارکنان کی ملازمتیں ختم ہوگئیں۔ مغربی میدنی پور کے تاریہ ہائی اسکول میں جغرافیہ کے استاد کرشنندو دتہ نے کہا کہ میرے خاندان میں ایک غیر شادی شدہ بہن اور بزرگ والدین ہیں۔ اب میں یہ سوچ کر ڈرتا ہوں کہ ان کی مدد کیسے کی جائے گی۔ لیکن ہم انصاف کی جنگ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سپریم کورٹ نے قابل اور نااہل کو الگ کر دیا تو پھر سب کی نوکری کیوں گئی؟

عدالتی حکم کے مطابق نوکریوں سے ہاتھ دھونے والے اساتذہ کو اب چار سال کی تنخواہ واپس کرنی ہوگی۔ یہ ایک اور بڑا جھٹکا ہے۔ متاثرہ اساتذہ پوچھ رہے ہیں کہ جو اپنی تنخواہیں واپس نہیں کر پا رہے ان کا کیا بنے گا؟ کیا بھرتی اسکینڈل میں ملوث اصل ملزمان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہو گی؟ ان تمام سوالوں کے جواب ابھی تک کسی کے پاس نہیں ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande