پٹنہ ، 3 اپریل (ہ س)۔ وقف ترمیمی بل بدھ کے روز لوک سبھا سے منظور کر لیا گیا۔ جمعرات کے روز راجیہ سبھا میں اسے پیش کرنے کے بعد بہار میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ بہار پولیس ہیڈ کوارٹر نے تمام اضلاع کے ایس ایس پی-ایس پی کو الرٹ کر دیا ہے۔ پولیس ہیڈکوارٹر کے اے ڈی جی لااینڈ آرڈر پنکج دراڈ نے تمام اضلاع کو الرٹ جاری کرتے ہوئے چوکس رہنے کو کہا ہے۔دراصل وقف ترمیمی بل کا تنازع پورے ملک میں گہرا ہوگیا ہے ۔ بہار میں بھی مسلمانوں نے اس بل کے خلاف احتجاج کیا ہے اور اسے مسلم مخالف قرار دے رہے ہیں۔ لوک سبھا میں بل پاس ہونے کے بعد مرکزی حکومت نے آج راجیہ سبھا میں بل پیش کیا ہے جس پر ایوان میں بحث ہو رہی ہے ۔ دریں اثنا بہار میں پولیس ہیڈکوارٹر نے اس بل کو لے کر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔پولیس ہیڈکوارٹر کے اے ڈی جی لااینڈ آرڈر پنکج دراڈ نے بہار میں امن برقرار رکھنے کے لیے تمام زون کے آئی جی اور ڈی آئی جی سے بات کی ہے۔ ایس ایس پی اور ایس پی کے ساتھ ریلوے ایس پی کو الرٹ بھیجا گیا ہے۔ اس بات کا پورا خیال رکھنے کو کہا گیا ہے کہ کسی بھی حالت میں ریاست کا امن و امان خراب نہ ہو۔ پنکج دراڈ نے کہا کہ اگر کوئی قانون سے کھیلتا ہے تو اس کے خلاف فوری طور پر مناسب قانونی کارروائی کی جانی چاہئے۔
بہار حکومت نے اکتوبر -2023 میں ذات کے سروے کے اعداد و شمار جاری کیے تھے ۔ سروے کے مطابق بہار کی کل آبادی 13 کروڑ ہے۔ ان میں سے 81.99 فیصد ہندو اور 17.70 فیصد مسلمان ہیں۔ کٹیہار ، پورنیہ ، ارریہ ، کشن گنج اور دربھنگہ وہ پانچ اضلاع ہیں جن میں سب سے زیادہ مسلم اکثریت ہے۔ ایسے میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی توجہ دینے کو کہا گیا ہے کہ ان اضلاع کے ساتھ ساتھ پوری ریاست میں کہیں بھی امن و امان کا مسئلہ نہ ہو۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan