علی گڑھ، 2 اپریل (ہ س)۔
معروف عالم و شہر جمعیۃ علما کے صدر مفتی اکبر قاسمی نے کہا ہے کہ وقف ترمیمی بل حکومت ہند کے گزشتہ سبھی منصوبوں سے زیادہ خطرناک ہے اور صاف لفظوں میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اوقاف کی جائیداد کو ہڑپنے کا منصوبہ ہے اس لیے یہ بل جب تک واپس نہیں لیا جاتا ہمیں اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھنا ہوگا ایسے میں ہمارا ملی سماجی اخلاقی اور مذہبی فریضہ ہے کہ ہم سب مل کر اکابر علماء کے ہاتھوں کو مضبوط کریں ان کی اپیل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس پر عمل کریں انشائاللہ حالات بدلیں گے ہندوستان میں صدیوں تک مسلمانوں نے حکمرانی کی انہی حکمرانوں کے دور میں اوقاف کا سلسلہ جاری ہوا اس سے قبل ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے زمانے میں زمین وقف کی تھی حضرت عمر فاروق کے زمانے میں بھی زمین کے اوقاف کا سلسلہ جاری تھا مسلمانوں کا بہت بڑا سرمایہ زمین اوقاف کی شکل میں موجود ہے۔
انگریزوں نے اوقاف میں خرد برد کرنا شروع کیا اور وقف کی جائیداد کا بے دریغ غلط استعمال کیا انہوں نے کہا اوقاف کی جائیدادوں پر ناجائز قبضہ جات کی فہرست طویل ہے اور جن کی موجودہ قیمت کروڑوں کھربوں میں ہے وہی بات حیرت انگیز ہے کہ مختلف وقف جائیدادوں پر سرکاری اداروں زمین مافیا سرکاری محکموں قیمتی زمینوں پر عمارتیں تعمیر کر رکھی ہیں ان حالات میں دردناک سوال یہ ہے کہ حکومت کے بلڈوزر اب کہاں سو رہے ہیں کیا ان حقائق سے حکومت کے شعبے آشنا نہیں ہہیں اور اگر یہی ناجائز قبضہ کسی مسلمان کی تنظیموں نے یا کسی مسلمان نے کیا ہوتا تو اب تک ان کا گھر بلڈوزر سے زمین دوز ہو چکا وقف ترمیمی بل 2024 ائین ہند 25/29/ اور 30?/ کی کھلی مخالفت ہے اس بل کو کوئی ببھی سیکولر شہری کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتا ہے
کیونکہ یہ ملک جمہوری ملک ہے اور جمہوری نظام کے تحت ہی ملک چلے گا اگر کوئی جمہوری نظام کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا خواہ وہ کوئی بھی ہو تو اس جمہوری نظام کو باقی رکھنے کے لیے اگر ضرورت پڑے گی کہ جیلوں کو سڑکوں کو بھرنا تو کوئی بعید نہیں ہے میں اس بل کی مکمل طور پر مخالفت کرتا ہوں اور ہماری پوری قوم اس کی مخالفت کرتی ہے اس لیے اگر اس ملک کی سالمیت کو ہم برقرار دیکھنا چاہتے ہیں تو اس بل کو واپس لینا ہی ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ