تلنگانہ کابینہ میں تین نشستیں خالی ، عنقریب توسیع اور تبدیلی کا امکان
حیدرآباد ،5 ستمبر(ہ س)۔ تلنگانہ کابینہ سے کونڈا سریکھا کی برطرفی کے بعد ریاستی کابینہ میں توسیع کی قیاس آرائیاں تیزہوچکی ہیں۔ وزارت میں شمولیت کے دعویداروں اورخواہشمندوں نے حیدرآباد سے دہلی تک اپنی سرگرمیوں کو تیزکردیا ہے تاکہ کابینہ میں کسی بھی صو
تلنگانہ کابینہ میں تین نشستیں مخلوعہ ، عنقریب توسیع اور تبدیلی کا امکان


حیدرآباد ،5 ستمبر(ہ س)۔ تلنگانہ کابینہ سے کونڈا سریکھا کی برطرفی کے بعد ریاستی کابینہ میں توسیع کی قیاس آرائیاں تیزہوچکی ہیں۔ وزارت میں شمولیت کے دعویداروں اورخواہشمندوں نے حیدرآباد سے دہلی تک اپنی سرگرمیوں کو تیزکردیا ہے تاکہ کابینہ میں کسی بھی صورت میں شمولیت حاصل کرسکیں۔ریاستی اسمبلی کی عددی طاقت کے اعتبار سے 18 رکنی کابینہ تشکیل دی جاسکتی ہے۔ وزیراعلی ریونت ریڈی کے بشمول ریاست میں 16 رکنی کابینہ کام کررہی تھی اوردونشستیں خالی تھیں۔ کونڈاسریکھا کی برطرفی کے بعد مخلوعہ وزارتی نشستوں کی تعداد بڑھ کرتین ہوچکی ہے۔ کابینہ میں خواتین کی نمائندگی گھٹ کردوسے ایک ہوگئی اورڈی انوسویا سیتا اکا واحد خاتون وزیرباقی ہیں۔ وزیراعلی ریونت ریڈی کی ہائی کمان کے قائدین سے ملاقات کے بعد حیدرآباد واپسی کے ساتھ ہی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ جاریہ ماہ کے اواخرتک کابینہ میں توسیع اورتبدیلی کی جاسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی ہائی کمان نے کارکردگی کی بنیاد پربعض وزراء کوعلحدہ کرنے کا فیصلہ کیاہے تاکہ نئے چہروں کو شامل کیاجاسکے۔ مخلوعہ تین نشستوں کوپُرکرنے کے علاوہ مزید تین وزراء کی علحدگی کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل یہ آخری توسیع رہے گی اوریہی کابینہ اسمبلی انتخابات کا سامنا کرسکتی ہے۔ وزارت میں شمولیت کیلئے جونام کانگریس حلقوں میں گشت کررہے ہیں،ان میں صدرپردیش کانگریس مہیش کمارگوڑ،اسپیکرتلنگانہ اسمبلی جی پرساد کمار،گورنمنٹ وہپ اے سرینواس،بالونائک،رامچندرنائک، راج گوپال ریڈی ،مال ریڈی رنگاریڈی،پریم ساگرراؤاوردوسرے شامل ہیں۔ کانگریس ہائی کمان نے راج گوپال ریڈی سے کابینہ میں شمولیت کا وعدہ کیا ہےاورتوقع ہے کہ مجوزہ توسیع میں انہیں شامل کیا جائے گا۔ وزارت میں خاتون نمائندگی بڑھ کر تین ہوسکتی ہیں

۔۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande