
۔ معصوم بیٹی کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا
بریلی، 5 ستمبر (ہ س)۔ اترپردیش کے بریلی ضلع کے بہیڑی نگر کے محلہ محمد پور میں زیر تعمیر مکان میں کام کرنے والے ایک مزدور کی ہفتہ کی صبح ہائی ٹینشن لائن کے رابطے میں آنے سے موت ہو گئی۔ 11 ہزار وولٹ کی لائن سے کرنٹ لگنے سے مزدور بری طرح جھلس گیا اور تیسری منزل کی بلندی سے نیچے گر گیا۔ حادثے کے بعد موقع پر کہرام مچ گیا۔ اطلاع ملنے پر اہل خانہ اسے نجی اسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ واقعے کے بعد اہل خانہ میں چیخ و پکار مچ گئی۔
محلہ محمد پور کے رہائشی محمد حسن (35) ولد اکبر مزدوری کر کے اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتا تھا۔ ہفتہ کی صبح 10 بجے کے قریب وہ پاور ہاو¿س کے سامنے زیر تعمیر مکان پر کام کر رہا تھا۔ وہ گھر کے قریب سے گزرنے والی 11,000 وولٹ کی ہائی ٹینشن لائن کے رابطے میں آگیا۔ کرنٹ لگنے سے وہ شدید طور پر جھلس گیا۔ اس دوران وہ اپنا توازن کھو بیٹھا اور تقریباً تین منزلہ بلندی سے نیچے گر گیا۔
حادثے کی آواز سن کر آس پاس کے لوگ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ انہوں نے گھر والوں کو واقعہ کی اطلاع دی۔ اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے زخمی مزدور کو فوری طور پر نجی اسپتال پہنچایا تاہم ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا۔ محمد حسن کی موت کی خبر ملتے ہی اہل خانہ میں کہرام مچ گیا۔ ان کی اہلیہ اور خاندان کے دیگر افراد کا رو رو کر برا حال ہے ۔
معصوم بیٹی کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا
محمد حسن کی ایک دو سالہ بیٹی ہے۔ وہ مزدوری کرکے اپنے اہل خانہ کی کفالت کر رہا تھا۔ حادثے میں ان کی ناگہانی موت نے ان کی معصوم بیٹی کے سر سے باپ کا سایہ چھین لیا۔ اہل خانہ کے مطابق خاندان کے مالی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ واقعہ پر اہل محلہ بھی سوگوار ہے۔
ہائی ٹینشن لائن کے قریب تعمیرات پراٹھے سوال
حادثے کے بعد زیر تعمیر مکان کے قریب سے گزرنے والی ہائی ٹینشن لائن پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام 11 ہزار وولٹ کی لائن کے بالکل قریب ہو رہا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ بجلی اور متعلقہ حکام ہائی ٹینشن لائنوں کے قریب تعمیرات کا معائنہ کریں اور حفاظتی معیارات کی پیروی کو یقینی بنائیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد