قرآن سے وابستگی، توبہ اور علم و تحقیق ہی امت کی ترقی کا راستہ ہے
للتاپارک میں ہفتہ وار درسِ قرآن، سورۃ بقرہ کی آیات 54 تا 60 کی تفسیر اور مسلمانوں کی تعلیمی صورتِ حال پر گفتگونئی دہلی،23ستمبر(ہ س)۔ جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے زیر اہتمام للتاپارک میں مغرب کی نماز کے بعد ہفتہ وار درسِ قرآن کا انعقاد ہوا۔
قرآن سے وابستگی، توبہ اور علم و تحقیق ہی امت کی ترقی کا راستہ ہے


للتاپارک میں ہفتہ وار درسِ قرآن، سورۃ بقرہ کی آیات 54 تا 60 کی تفسیر اور مسلمانوں کی تعلیمی صورتِ حال پر گفتگونئی دہلی،23ستمبر(ہ س)۔

جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے زیر اہتمام للتاپارک میں مغرب کی نماز کے بعد ہفتہ وار درسِ قرآن کا انعقاد ہوا۔ اس موقع پر فلاح الدین فلاحی نے سور? بقرہ کی آیات 54 تا 60 کا ترجمہ و تفسیر بیان کرتے ہوئے بنی اسرائیل کے واقعات اور ان سے حاصل ہونے والے اہم اسباق پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ گوسالہ پرستی کے گناہ کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو توبہ کی طرف متوجہ کیا اور انہیں احساس دلایا کہ انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کی اس ضد کا ذکر ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا نہ دیکھ لیں، جس پر انہیں صاعقہ نے آلیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں موت کے بعد دوبارہ زندگی عطا فرمائی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی نعمتوں پر شکر اور حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا سبق ملتا ہے۔

فلاح الدین فلاحی نے مزید بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر بادل کا سایہ کیا، ان کے لیے من و سلویٰ عطا فرمایا اور انہیں پاکیزہ رزق کھانے کا حکم دیا، لیکن انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر کرنے کے بجائے ناشکری کی۔ اسی طرح انہیں ایک بستی میں داخل ہوتے وقت عاجزی کے ساتھ داخل ہونے اور اللہ سے مغفرت طلب کرنے کی ہدایت دی گئی، مگر انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا، جس کے نتیجے میں ان پر عذاب نازل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی نعمتیں شکر، اطاعت اور عاجزی کا تقاضا کرتی ہیں، جبکہ نافرمانی اور ناشکری انسان کو زوال کی طرف لے جاتی ہے۔اس کے بعد علیم الدین صاحب نے مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال اور اس کے اسباب پر گفتگو کرتے ہوئے علم و تعلیم کی اہمیت کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا کے حوالے سے 630 عیسوی سے 1300 عیسوی تک مسلمانوں کا علمی عروج کا اہم دور رہا، جس میں طب، الجبرا، ریاضی، سائنس اور دیگر علوم میں نمایاں ترقی ہوئی۔ ان کے مطابق مسلمانوں کی اس علمی پیش رفت کی ایک اہم وجہ قرآن سے مضبوط تعلق، اس کی ہدایات کو سمجھنا، غوروفکر، تدبر اور تحقیق کا جذبہ تھا۔

علیم الدین نے کہا کہ قرآن انسان کو بار بار عقل استعمال کرنے، غوروفکر اور تدبر کی دعوت دیتا ہے۔ جب مسلمانوں نے قرآن کو سمجھ کر اپنی زندگی کا رہنما بنایا تو وہ علمی میدان میں آگے بڑھے، لیکن قرآن کو سمجھنے اور علمی تحقیق سے دوری کے ساتھ مسلمان رفتہ رفتہ تنزلی اور زوال کا شکار ہوتے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال میں بہتری کے لیے دینی شعور کے ساتھ جدید علوم، تحقیق اور تعلیم کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے برصغیر میں جدید تعلیم کے تاریخی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے سر سید احمد خان کی تعلیمی جدوجہد کا حوالہ دیا اور کہا کہ مسلمانوں کی ترقی کے لیے دینی تعلیم کے ساتھ سائنس، ریاضی، طب اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق قرآن سے تعلق کا تقاضا صرف تلاوت نہیں بلکہ اس کے پیغام کو سمجھنا، اس میں غوروفکر کرنا اور علم و تحقیق کے ذریعے معاشرے کی تعمیر کرنا بھی ہے۔اس موقع پر ناظمِ علاقہ للتاپارک سید شیہروز رضا، اطہر حسین انصاری، مسرور عالم، ثنائ اللہ اور دیگر افراد موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande