
واشنگٹن، 19 ستمبر (ہ س)۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو (مقامی وقت کے مطابق) ’لنڈسے او گراہم سینکشننگ روس اینڈ ایران ایکٹ آف 2026‘ پر دستخط کر کے اسے قانون کی شکل دے دی ہے۔ نیا قانون امریکی صدر کو روس سے خام تیل اور قدرتی گیس خریدنے والے ممالک پر سو فیصد تک درآمدی ڈیوٹی (ٹیرف) عائد کرنے کا وسیع اختیار دیتا ہے۔
برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کے مطابق ’لنڈسے او گراہم سینکشننگ روس اینڈ ایران ایکٹ آف 2026‘ پر امریکی صدر کے دستخط کے بعد یہ باضابطہ قانون بن چکا ہے۔ رواں ہفتے ہی ایوانِ نمائندگان نے اسے 159-262 ووٹوں سے منظوری دی تھی۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد روس کی معاشی صلاحیت کو کمزور کرنا اور یوکرین جنگ سے وابستہ اس کے وسائل پر دباو ڈالنا ہے۔ اس میں روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر سو فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جس کے دائرے میں بنیادی طور پر ہندوستان اور چین آ سکتے ہیں۔
یہ قانون صدر کو مخصوص حالات میں چھوٹ دینے کا اختیار بھی دیتا ہے، جس میں کانگریس کو یہ تصدیق کرنا شامل ہے کہ یہ چھوٹ قومی مفاد میں ہے۔ یہ قانون ایران کے توانائی اور اسلحہ سازی کے شعبوں پر عائد پابندیوں کو بھی آئندہ پانچ سال کے لیے توسیع دیتا ہے۔ یہ بل اگست میں امریکی سینیٹ میں 11-86 کے واضح فرق سے منظور ہوا تھا۔ اس کے بعد رواں ہفتے ایوانِ نمائندگان نے بھی اسے 159-262 ووٹوں سے منظور کیا۔ اس بل کا نام اس تجویز کے اہم حامیوں میں شامل ریپبلکن رہنما سینیٹر لنڈسے گراہم کے نام پر رکھا گیا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ نئے قانون سے روس پر پہلے سے عائد پابندیوں کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جس کے تحت روس کے سرکاری حکام، مالیاتی اداروں، دفاعی شعبے سے وابستہ نیٹ ورکس اور توانائی کی نقل و حمل میں استعمال ہونے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔
امریکہ کے اس اقدام کا اثر ہندوستان اور چین سمیت عالمی توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی تجارت پر پڑ سکتا ہے۔ البتہ ہندوستان نے اس پیش رفت سے قبل ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کے مطابق اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھے گا اور کسی بھی بیرونی دباو میں آئے بغیر ان ممالک سے تیل یا توانائی کے وسائل کی خریداری جاری رکھے گا جہاں سے اسے مناسب قیمت پر دستیاب ہوں۔ خاص طور پر روس-یوکرین جنگ اور اس کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے روس پر لگائی گئی پابندیوں کے تناظر میں ہندوستان نے عالمی فورم پر اپنا موقف انتہائی دوٹوک رکھا ہے۔ ہندوستان کا استدلال ہے کہ ایک ترقی پذیر ملک ہونے کی حیثیت سے اپنی وسیع آبادی کے لیے سستی اور بلاتعطل توانائی کی سیکورٹی یقینی بنانا اس کی اولین ذمہ داری ہے۔
جبکہ اسی ہفتے ایوانِ نمائندگان میں اسے منظور کیے جانے کے بعد چین نے کہا کہ وہ یکطرفہ پابندیوں کی سخت مخالفت کرتا ہے جو بین الاقوامی قوانین پر مبنی نہیں ہیں، ایسے اقدامات کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تائید بھی حاصل نہیں ہے۔ چین نے کہا کہ کسی بھی ملک کے ساتھ اس کے معمول کے تجارتی اور معاشی تعاون میں فریقِ ثالث کی مداخلت یا دباو نہیں ہونا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن