
جموں, 19 ستمبر (ہ س)جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں یونیورسٹی میں نشہ مکت بھارت ابھیان کے حوالے سے تیار کردہ دستاویزی فلم اور کولاج نمائش کا افتتاح کیا۔اس موقع پر منوج سنہا نے منشیات کے استعمال کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے لیے یونیورسٹی آف جموں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ منشیات کا استعمال جموں و کشمیر کے سماجی تانے بانے کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، جس سے خاندان متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ رہا ہے۔
انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ اور نارکو ٹیررازم کے درمیان تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امن و سلامتی اور منشیات سے پاک جموں و کشمیر کے لیے منشیات کی سپلائی چین سے جڑے نیٹ ورکس کو ختم کرنا ضروری ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ 2020 میں نشہ مکت جموں و کشمیر مہم شروع کی گئی تھی، جبکہ رواں سال اپریل میں 100 روزہ نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان شروع کیا گیا، جس کے تحت گاؤں، اسکولوں، یونیورسٹیوں اور خاندانوں تک بیداری مہم پہنچائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پیدل مارچ، بیداری پروگراموں اور انتظامی اقدامات کے ذریعے اس مہم کو عوامی تحریک بنانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف مہم کے تین اہم پہلو منشیات کی سپلائی چین کو ختم کرنا، بیداری پیدا کرنا اور متاثرہ افراد کی بحالی ہیں۔ اس سلسلے میں 2026 میں منشیات کے استعمال سے متاثرہ افراد کی بحالی اور سماجی و اقتصادی بحالی کے لیے اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کا مقصد متاثرہ نوجوانوں کو دوبارہ معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا ہے۔منوج سنہا نے یونیورسٹی کے طلبہ پر زور دیا کہ وہ نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان کے سفیر بنیں، اپنے ساتھیوں میں بیداری پیدا کریں اور نشے کی لت میں مبتلا افراد کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ مستقل تبدیلی کے لیے بیداری، خاندانی تعاون، بروقت مدد اور بحالی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف جموں سمیت دیگر تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک بنانا ایک اہم مقصد ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یونیورسٹی میں تیار کی گئی دستاویزی فلم کو تمام شعبہ جات کے علاوہ جموں ڈویژن کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی دکھایا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر