اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل امریکہ-فلسطین کشیدگی میں اضافہ، ویزا پابندیوں کا اعلان
واشنگٹن، 17 ستمبر (ہ س)۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے آغاز سے چند روز قبل امریکہ نے فلسطینی حکام پر ویزا پابندیاں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے ارکا
علامتی تصویر


واشنگٹن، 17 ستمبر (ہ س)۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے آغاز سے چند روز قبل امریکہ نے فلسطینی حکام پر ویزا پابندیاں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے ارکان اور فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے عہدیداروں کے لیے ویزا پابندیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔

ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کو مطلع کیا کہ پی ایل او اور پی اے امریکی قوانین کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں اور عہد و پیماں کو پورا کرنے میں ایک بار پھر ناکام رہے ہیں۔ محکمے نے اس کے لیے بین الاقوامی فورمز پر فلسطینی فریق کے متعدد اقدامات کا حوالہ دیا۔

امریکہ نے خاص طور پر انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) کے توسط سے اسرائیل-فلسطین تنازعہ کو بین الاقوامی اداروں تک لے جانے کی کوششوں کا تذکرہ کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، فلسطینی فریق کی جانب سے فلسطینی ریاست کو یکطرفہ طور پر بین الاقوامی تسلیمیت دلانے کی کوششوں کو بھی مذاکراتی عمل کو نظر انداز کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکہ نے پی ایل او اور پی اے پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے اور دہشت گردی کو فروغ دینے کے بھی الزامات عائد کیے ہیں۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا نیا سیشن اگلے ہفتے نیویارک میں شروع ہونے والا ہے۔ گزشتہ سال بھی امریکہ نے جنرل اسمبلی سے قبل پی ایل او اور پی اے کے عہدیداروں کے ویزے منظور کرنے سے انکار کر دیا تھا یا چند ویزے منسوخ کر دیے تھے۔

تاہم، اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر معاہدے کے تحت نیویارک میں واقع فلسطینی مشن کو بعض خصوصی چھوٹ حاصل ہے۔

گزشتہ سال فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس ذاتی طور پر جنرل اسمبلی میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس سے خطاب کیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ڈپٹی ترجمان پالوما چاکون نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ویزا سے متعلق ہر فیصلے کو قومی سلامتی سے وابستہ فیصلہ سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے میزبان ملک کی حیثیت سے امریکہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے، لیکن ویزا درخواست گزاروں کی جانچ اور سیکورٹی معیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

چاکون کے مطابق، جنرل اسمبلی میں شرکت کرنے والے وفود کو ویزا درخواست سے متعلق ضروریات کے بارے میں پہلے ہی مطلع کر دیا گیا تھا۔ اگر کوئی درخواست گزار سیکورٹی جانچ کے معیارات یا دیگر مقررہ رہنما خطوط پر پورا نہیں اترتا، تو اس کا ویزا مسترد کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ کے اس اعلان پر فلسطینی اتھارٹی یا پی ایل او کی جانب سے فوری طور پر کوئی عوامی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا ہے کہ صدر محمود عباس اور آئندہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کرنے والے فلسطینی وفد کے ہر رکن کی ویزا درخواست پر کیا فیصلہ لیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کے معاملے پر بین الاقوامی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہونے کی توقع ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande