اگر حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں تو عمر عبداللہ کو اسمبلی تحلیل کر دینی چاہیے: سنیل شرما
سرینگر 17 ستمبر (ہ س)۔ جموں و کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو کہا کہ اگر حکومت کے پاس فیصلے لینے کا کوئی اختیار نہیں ہے، تو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو اسمبلی تحلیل کر دینی چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق، صحافیوں سے
اگر حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں تو عمر عبداللہ کو اسمبلی تحلیل کر دینی چاہیے: سنیل شرما


سرینگر 17 ستمبر (ہ س)۔ جموں و کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو کہا کہ اگر حکومت کے پاس فیصلے لینے کا کوئی اختیار نہیں ہے، تو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو اسمبلی تحلیل کر دینی چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق، صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اور وہ صرف تنخواہیں لے رہی ہے، تو عمر عبداللہ کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ فیصلہ کریں اور اسمبلی تحلیل کر دیں تاکہ سب سکون سے بیٹھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت (اسٹیٹ ہڈ) کی بحالی کے بعد نئے انتخابات کی ضرورت ہوگی، کیونکہ موجودہ آئینی انتظام 'یونین ٹیریٹری' مرکزی زیر انتظام علاقہ ہے۔انہوں نے کہا، جب بھی ریاستی حیثیت بحال ہوگی، ریاست میں نئے انتخابات ہوں گے۔ اگر آج ریاستی حیثیت ملتی ہے تو انتخابات کروانے پڑیں گے کیونکہ نیا آئینی انتظام ایک ریاست کا ہوگا۔ موجودہ انتظام کے تحت ہونے والے انتخابات یونین ٹیریٹری کے لیے تھے۔شرما نے کہا، اگر ہمیں انتخابات کا انتظار کرنا ہے تو عمر عبداللہ تب تک کس لیے آئے ہیں؟ کیا وہ عیش و آرام کے لیے آئے ہیں؟ کیا وہ بادشاہوں کی طرح رہنے آئے ہیں؟ کیا وہ بادشاہت کرنے آئے ہیں؟ وہ عوام کو کیوں دھوکہ دے رہے ہیں؟ ۔آرٹیکل 370 پر شرما نے کہا کہ یہ فیصلہ پارلیمنٹ نے کیا تھا نہ کہ صرف بی جے پی نے۔ انہوں نے کہا، جس دن نیشنل کانفرنس پارلیمنٹ میں 275 نشستیں حاصل کر لے گی، اس دن ان سے اس بارے میں بات کرنے کو کہیے گا۔شرما نے کہا کہ بی جے پی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہے گی اور عوام کے خدشات اٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے کہا، اپوزیشن کے طور پر، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عوام کی آواز بنیں کیونکہ حکومت بات نہیں سن رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بات چیت کا عمل شروع کرے اور احتجاج کرنے والے ملازمین سے اپیل کی کہ اگر حکومت مذاکرات پر آمادہ ہو جائے تو وہ اپنی ہڑتال ختم کر دیں۔ انہوں نے کہا، میں دیہاڑی دار ملازمین سے بھی اپیل کروں گا کہ اگر حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہو تو وہ اپنی ہڑتال ختم کر دیں۔ لیکن کم از کم کوئی پہل تو کی جائے۔کشمیری پنڈتوں کو ملنے والی دھمکیوں کے حوالے سے شرما نے کہا کہ یہ برادری پوسٹروں یا دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا، کشمیر یہاں کے ہر رہائشی کا ہے، بشمول کشمیری پنڈتوں کے۔ یہ وہ وقت نہیں ہے جب کوئی لوگوں کو ڈرانے کی کوشش کر سکے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir


 rajesh pande