عدالت نے پاکستان میں مقیم دہشت گرد کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا
عدالت نے پاکستان میں مقیم دہشت گرد کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا جموں، 17 ستمبر (ہ س)۔ جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت نے پاکستان میں مقیم لشکرِ طیبہ کے کمانڈر سیف اللہ کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیا ہے۔ حکام کے مطابق سیف اللہ اپری
عدالت نے پاکستان میں مقیم دہشت گرد کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا


عدالت نے پاکستان میں مقیم دہشت گرد کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا

جموں، 17 ستمبر (ہ س)۔ جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت نے پاکستان میں مقیم لشکرِ طیبہ کے کمانڈر سیف اللہ کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیا ہے۔ حکام کے مطابق سیف اللہ اپریل 2025 میں پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے سمیت کئی اہم دہشت گردانہ کارروائیوں سے منسلک رہا ہے۔ حکام کے مطابق سیف اللہ پاکستان کے قصور ضلع کے چنگا مانگا گاؤں کا رہنے والا ہے اور لشکر کی صفوں میں ساجد جٹ، علی بھائی، حبیب اللہ ملک، لنگڑا، نومی، نعمان، عثمان حبیب اور شانی جیسے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔

این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ سیف اللہ پاکستان سے کشمیر میں سرگرم دہشت گردوں کو اسلحہ، رقم اور حملوں سے متعلق ہدایات فراہم کرتا رہا ہے۔ گرفتار کیے گئے پاکستانی دہشت گردوں میں سے ایک کے قبضے سے سیف اللہ سے منسلک ٹیلی گرام آئی ڈیز بھی برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ این آئی اے کے مطابق مارچ میں سرینگر کے پانڈچ علاقے میں لشکر کے ایک رکن کو روکنے کے بعد ایک دہشت گرد نیٹ ورک کا سراغ ملا، جس کے نتیجے میں پاکستانی دہشت گرد عبداللہ عرف ابو حریرہ، عثمان عرف خبیب اور تین مقامی افراد کو گرفتار کیا گیا۔

عدالت نے این آئی اے کی درخواست اور پیش کیے گئے مواد کا جائزہ لینے کے بعد 8 ستمبر کو سیف اللہ کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا۔ چونکہ ملزم مفرور ہے، اس لیے وارنٹ کی تعمیل کے لیے اسے متعلقہ پولیس حکام کو بھیج دیا گیا ہے۔ این آئی اے کے مطابق سیف اللہ نے 2005 سے 2007 کے دوران کولگام میں لشکرِ طیبہ کے کمانڈر کے طور پر بھی کام کیا اور بعد ازاں پاکستان فرار ہوگیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande